اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) جمعہ کو قومی اسمبلی میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے بڑا پن دکھا کر بل پیش کرنے کا راستہ ہموار کیا ہے‘ ہم نے آئندہ بھی مسائل کے حل کے لئے مل کر کام کرنا ہے‘ صوبائی حکومت اس علاقے میں تعلیم‘ صحت اور انصاف کی سہولت فراہم کرنے کے لئے انفراسٹرکچر کے حوالے سے …
تمام سیاسی جماعتوں نے بڑا پن دکھا کر بل پیش کرنے کا راستہ ہموار کیا ہے، پرویز خٹک

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) جمعہ کو قومی اسمبلی میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے بڑا پن دکھا کر بل پیش کرنے کا راستہ ہموار کیا ہے‘ ہم نے آئندہ بھی مسائل کے حل کے لئے مل کر کام کرنا ہے‘ صوبائی حکومت اس علاقے میں تعلیم‘ صحت اور انصاف کی سہولت فراہم کرنے کے لئے انفراسٹرکچر کے حوالے سے کام کر رہی ہے‘ صوبوں اور وفاق سے اس علاقے کو تین فیصد حصہ دیا جارہا ہے جس سے پانی‘ بجلی اور سڑکوں کے مسائل حل ہوں گے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں دستور (ترمیمی) بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ سابق فاٹا کو علاقہ غیر کہتے تھے‘ سابق فاٹا خیبرپختونخوا میں ضم ہو چکا ہے۔ ہم ایک ہیں۔ 70 سال کے بعد سابق فاٹا خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ ہمارے صوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔ لوگوں کی زندگی میں بہتری آئے گی‘ ترقی ہوگی‘ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے یہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ برطانوی دور میں اسے بفرزون بنایا گیا تھا۔ یہ پاکستان کی سرحد کے محافظ تھے۔ پاکستان کی خاطر انہوں نے اپنی سرحدوں کا دفاع کیا۔ تکلیفیں برداشت کیں‘ خوش آئند بات ہے کہ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔ ہمیں قومی امور پر مل کر چلنا چاہیے۔ یہ ہم سب کا ملک ہے۔ ہمیں ملکی مسائل کے حل کے لئے مل کر کام کرنا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے آج بڑا پن دکھایا ہے۔ مستقبل میں بھی اس بڑے پن کی ضرورت ہے۔ ہمیشہ فاٹا کے خیبرپختونخوا کے انضمام کی حمایت کی۔ رکاوٹوں کے باوجود سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام مکمل کیا گیا۔ صوبائی حکومت اس علاقے میں تعلیم‘ صحت اور انصاف کی سہولت فراہم کرنے کے لئے انفراسٹرکچر کے حوالے سے کام کر رہی ہے۔ صوبوں اور وفاق سے اس علاقے کو تین فیصد شیئر دیا جارہا ہے اس سے بڑی ترقی ہوگی۔ پانی‘ بجلی اور سڑکوں کے مسائل حل ہوں گے۔ جب فاٹا کے لوگوں کو حق ملے گا تو ان کی ملک سے محبت میں اضافہ ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتیں اور پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے اب یہ خیبرپختونخوا کا حصہ ہے۔ سب کے لئے قانون ایک ہوگا۔ اس علاقے میں ستمبر‘ اکتوبر تک بلدیاتی نظام لائیں گے۔ 30 ارب روپے بلدیاتی نظام سے منتخب لوگوں کو ملیں گے جس سے مقامی سطح پر ترقی ہوگی۔ پیر کو اتفاق رائے سے یہ بل منظور کرلیں گے۔ علاقے کے منتخب نمائندوں کے مطالبہ پر یہ بل منظور کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن سے ہماری دشمنی نہیں ہے‘ بات چیت کے ذریعے آگے بڑھا جائے۔ اپوزیشن غصہ نہ کرے آپ ہماری بات نہیں سنیں گے تو ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ جب آپ بول کر بھاگ جاتے ہیں آپ میں برداشت نہیں آپ بات کریں گے ہم جواب دیں گے آپ کو سننا پڑے گا۔








