تمام سیاسی سرگرمیوں کی ناکامی کے بعد اب صرف اڈیالہ جیل کے گیٹ پر سیاست کی جا رہی ہے، حکومت سیاسی مخالفین کو ذاتی دشمن نہیں سمجھتی، قیدیوں کو تمام آئینی اور قانونی حقوق دیئے جا رہے ہیں، طلال چوہدری

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاہے کہ تمام سیاسی سرگرمیوں کی ناکامی کے بعد اب صرف اڈیالہ جیل کے گیٹ پر سیاست کی جا رہی ہے، حکومت سیاسی مخالفین کو ذاتی دشمن نہیں سمجھتی، قیدیوں کو تمام آئینی اور قانونی حقوق دیئے جا رہے ہیں اور کسی کوتاہی کی صورت میں ذمہ داری جیل حکام پر عائد ہو گی۔بدھ کوقومی اسمبلی میں اراکین کے …

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاہے کہ تمام سیاسی سرگرمیوں کی ناکامی کے بعد اب صرف اڈیالہ جیل کے گیٹ پر سیاست کی جا رہی ہے، حکومت سیاسی مخالفین کو ذاتی دشمن نہیں سمجھتی، قیدیوں کو تمام آئینی اور قانونی حقوق دیئے جا رہے ہیں اور کسی کوتاہی کی صورت میں ذمہ داری جیل حکام پر عائد ہو گی۔بدھ کوقومی اسمبلی میں اراکین کے نکتہ ہائے اعتراض پرجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان کی پارلیمانی حاضری 100 سے زیادہ ہے اور ایوان کے کسی بھی رکن کی حاضری سو فیصد نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ سینیٹ یا کسی بھی فورم پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میں نے کسی معاملے پر عملدرآمد نہیں کیا یا بروقت ردعمل نہیں دیا، قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ہر مرتبہ تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان کی شرکت ان کی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے، اگر محض نام لے کر سرخی بنانی ہو تو یہ میڈیا کی صوابدید ہے تاہم اصل چیز کارکردگی اور حاضری ہے جو سب کے سامنے ہے۔

افغان شہریوں سے متعلق حالیہ معاملے کاذکرکرتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایا کہ گزشتہ رات ان کی شہریار آفریدی سے بات ہوئی جس میں واضح کیا گیا کہ یہ ایک باقاعدہ قانونی عمل ہے، بعض اوقات معاملات کو جلد بازی میں صوبائیت یا کسی اور رخ کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جو درست نہیں۔طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بعض پاکستانیوں نے ذاتی یا مالی مفاد کے لیے افغان باشندوں کو بی فارم میں شامل کر کے پاکستانی بنانے کی کوشش کی اور نادرا نے اس حوالے سے دو بڑی مہمات چلائیں، ملوث نادرا اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں اور یہ عمل اب بھی جاری ہے تاکہ افغان شہریوں کو الگ اور پاکستانی شہریوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ معاملہ راولپنڈی ڈسٹرکٹ سے متعلق ہے، پولیس حکام سے بات ہو چکی ہے اور سات افراد کی فہرست ان کے پاس موجود ہے جبکہ مکمل قانونی عمل جاری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو بچے یا افراد پاکستانی ثابت ہوں گے وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، انہیں کہیں نہیں بھیجا جا رہا، یہ افراد حاجی کیمپوں یا دیگر مقامات پر موجود ہیں اور قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد تمام پاکستانی بچے آج اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کے حوالہ سے وزیر مملکت نے کہا کہ اس پر غیر ضروری سیاست کی جا رہی ہے، جتھے لے کر جانا، عوامی اجتماع کرنا اور ہزاروں قیدیوں کی جان کو خطرے میں ڈالنا کسی طور درست نہیں، جیل حکام کو یہ ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا کہ ملاقات کس طرح اور کن شرائط پر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے قیدی بھی رہے ہیں جو 30، 30 سال جیل میں رہے، مگر انہیں اتنی ملاقاتیں بھی نہیں ملیں جتنی اس قیدی کو دی جا چکی ہیں۔

ان کے مطابق ساڑھے آٹھ سو سے زائد افراد ملاقات کر چکے ہیں جن میں اہل خانہ، سیاسی رہنما اور وکلا شامل ہیں جبکہ ڈاکٹر تک علیحدہ رسائی بھی حاصل ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ بعض حلقے وقفے وقفے سے سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ قیدی کی حالت تشویشناک ہے، مگر ملاقاتوں میں سب دیکھتے ہیں کہ وہ ماشاء اللہ صحت مند، تندرست و توانا ہیں اور باقاعدہ ورزش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں مکمل کمپلیکس موجود ہے جہاں ورزش، ذاتی ڈاکٹر، باورچی، مینو اور جیل مینول کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی، تمام سیاسی سرگرمیاں ناکام ہو چکی ہیں، اب صرف اڈیالہ جیل کے گیٹ پر سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سیاسی مخالفین کو ذاتی دشمن نہیں سمجھتی، قیدیوں کے تمام آئینی اور قانونی حقوق دیئے جا رہے ہیں اور کسی کوتاہی کی صورت میں ذمہ داری جیل حکام پر عائد ہو گی۔