تنازعات کے حل میں ثالثی کے فروغ کی ضرورت ہے، مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام پائیدار امن اور انصاف کی بنیاد ہیں، گورنرفیصل کریم کنڈی

تنازعات کے حل میں ثالثی کے فروغ کی ضرورت ہے، مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام پائیدار امن اور انصاف کی بنیاد ہیں، گورنرفیصل کریم کنڈی

پشاور۔ 19 جون (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ تنازعات کے حل میں ثالثی کے فروغ کی ضرورت ہے، مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام پائیدار امن اور انصاف کی بنیاد ہیں، جدید ثالثی کا نظام ہماری روایتی اقدار کو قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا ہے، ملک کی عدالتوں پر مقدمات کا بڑھتا ہوا بوجھ متبادل نظامِ حلِ تنازعات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے، انصاف میں تاخیر معاشی ترقی، کاروباری اعتماد اور سماجی استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (IMAC) کے زیر اہتمام نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (NIPA)، پشاور میں منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ تنازعات کا دیرپا حل تصادم نہیں بلکہ مکالمہ، اعتماد اور باہمی احترام ہے، خیبر پختونخوا کا اے ڈی آر ایکٹ 2020 متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے لیے مؤثر قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے، جنوبی خیبرپختونخوا اور ضم شدہ اضلاع میں ثالثی کے نظام کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں ثالثی کا فروغ معاشرتی ہم آہنگی اور اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے، مؤثر نظامِ حلِ تنازعات سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتیں اور متبادل نظامِ حلِ تنازعات مل کر عوام کو بروقت، سستا اور آسان انصاف فراہم کر سکتے ہیں، نوجوان وکلاء، سول افسران اور ماہرینِ تعلیم امن، انصاف اور مکالمے کے سفیر بنیں، مقدمہ سے پہلے ثالثی اور تنازع سے پہلے مکالمے کو ترجیح دی جانی چاہیے، ایک مضبوط، پرامن اور متحد معاشرے کے لیے ثالثی اور مکالمے کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو عوام دوست اور مؤثر نظامِ حلِ تنازعات کا مثالی صوبہ بنانا ہمارا مشترکہ ہدف ہے، آئی ایم اے سی اور وزارتِ قانون و انصاف انصاف کے نظام میں اصلاحات کے لیے قابلِ تحسین خدمات انجام دے رہے ہیں، متبادل نظامِ حلِ تنازعات انصاف تک رسائی کو آسان، تیز اور مؤثر بنانے کا اہم ذریعہ ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان نے عالمی سطح پر سفارتی روابط اور مکالمے کے فروغ میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کیا، امریکہ ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور امن کے لیے مذاکراتی ماحول کی تشکیل میں پاکستان کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، پاکستان نے اعتماد سازی اور رابطوں کے فروغ کے ذریعے ایک مؤثر مذاکراتی فریم ورک کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹریٹجک قیادت نے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ کو مضبوط بنایا، پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، سفارتی کوششوں کے ذریعے پاکستان نے خطے میں مثبت تبدیلی اور باہمی تعاون کو فروغ دیا۔

مزید خبریں