تیزی سے بڑھتی آبادی و موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں، سیف الرحمان

لاہور۔9نومبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کی معیشت کو شدید اور کثیر جہتی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اتوار کویہاں پاکستان کی معیشت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ سے ملک کے محدود …

لاہور۔9نومبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کی معیشت کو شدید اور کثیر جہتی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

اتوار کویہاں پاکستان کی معیشت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ سے ملک کے محدود وسائل پر شدید دبا بڑھ رہا ہے، جس سے بے روزگاری، غربت اور غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو رہا ہے، معاشی ترقی کے فوائد کم ہو رہے ہیں جبکہ سماجی خدمات اور انسانی ترقی کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہر اور زرعی پیداوار کمی کا شکار ہے۔ معاشی سٹرکچر کمزور ہو رہا ہے اور معاش میں رکاوٹ آ رہی ہے جس سے خاص طور پر دیہی علاقے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت کو تعلیم، آگاہی مہم اور خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کے ذریعے آبادی پر کنٹرول کی موثر حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

دوسری طرف ماحولیاتی انحطاط کو کم کرنے اور قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینے، پانی کے موثر انتظام اور سبز ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کے لیے موسمیاتی لحاظ سے لچکدار پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ سیف الرحمن نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتے ہوئے معاشرے کے پسماندہ طبقے کو ترقی دینے کی ضرورت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ معاشی مواقع کو وسعت دینے اور سماجی تحفظ کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف آبادی میں اضافے کی رفتارکو کم کرکے اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے ذریعے ہی مستحکم، لچکدار اور پائیدار معاشی مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔