اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق مقدمے میں خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی محتسب کی جانب سے دائر اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جب اصل نجی فریقین خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب اپیل میں کیوں آئے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ محتسب …
جائیداد کی ملکیت و تقسیم تنازعہ ،سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت اور محتسب کی اپیلیں خارج کردیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق مقدمے میں خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی محتسب کی جانب سے دائر اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جب اصل نجی فریقین خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب اپیل میں کیوں آئے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ محتسب ایک جج کی حیثیت رکھتا ہے، وہ کسی مقدمے میں فریق نہیں بن سکتا اور نہ ہی اعلیٰ عدالتوں میں اپنے فیصلوں کا دفاع کر سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محتسب ایک نیم عدالتی ادارہ ہے اور فیصلے سے متاثر ہونے والا فریق نہیں بن سکتا، اس کی حیثیت ایک منصف کی ہے جسے غیر جانبدار رہنا چاہیے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس جائیداد کی وارث تھی اور نہ ہی فیصلے سے اسے کوئی ذاتی نقصان پہنچا، اس لیے حکومت اور محتسب کو اپیل دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر جائیداد کے اصل دعویدار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا حق متاثر نہیں ہوگا۔کیس میں شبیر خان اور دیگر نجی فریقین کے درمیان جائیداد کی ملکیت اور تقسیم کا تنازعہ تھا۔
خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب نے ویمن پراپرٹی ایکٹ 2019 کے تحت فیصلہ سنایا تھا تاہم پشاور ہائی کورٹ نے محتسب کے فیصلے کو دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت اور محتسب کی اپیلیں خارج کر دیں۔








