جامع اور پائیدار ترقی کیلئے ایس ایم ایز کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے، ایس ایم ایز کی مالی شمولیت ضروری، بینکس اثاثہ جات کے بجائے آمدنی کی بنیاد پر قرضے دیں، خواجہ محبوب الرحمٰن

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم نے پالیسی سازوں اور مالیاتی ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ کیش فلو پر مبنی قرضہ جات کو فروغ دینے کے لئے محتاط ضوابط (Prudential Regulations) متعارف کرائے جاسکیں تاکہ ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبہ (ایس ایم ایز) کی بے پناہ صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔ پاکستان بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمن نے …

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم نے پالیسی سازوں اور مالیاتی ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ کیش فلو پر مبنی قرضہ جات کو فروغ دینے کے لئے محتاط ضوابط (Prudential Regulations) متعارف کرائے جاسکیں تاکہ ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبہ (ایس ایم ایز) کی بے پناہ صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔

پاکستان بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمن نے تاجروں اور ایس ایم ایز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی لاکھوں چھوٹے کاروباروں سے وابستہ ہے جو پیداوار کرتے ہیں، جدت لاتے ہیں اور روزگار بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم جامع اور پائیدار ترقی چاہتے ہیں تو ایس ایم ایز کو بااختیار بنانا کوئی آپشن نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں مینوفیکچرنگ، سروسز اور تجارتی شعبوں میں 52 لاکھ سے زائد کاروبار سرگرم عمل ہیں۔ یہ شعبہ قومی جی ڈی پی میں تقریباً 40 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے اور غیر زرعی لیبر فورس کے 80 فیصد سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔

اس نمایاں کردار کے باوجود نجی شعبہ کے کل قرضوں میں ایس ایم ایز کا حصہ 7 فیصد سے بھی کم ہے جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم شرح میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں نجی شعبہ کو فراہم کی جانے والی فنانسنگ جی ڈی پی کے تقریباً 6.5 فیصد کے برابر ہے جو کم ہے۔ ایس ایم ایز کے شعبہ میں قرضہ حاصل کرنے والوں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 95 ہزار بتائی جاتی ہے جبکہ مجموعی ایس ایم ای فنانسنگ تقریباً 686 ارب روپے ہے جو ممکنہ استعداد کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ خواجہ محبوب الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ سخت ضمانتی تقاضے (Collateral Requirements) چھوٹے کاروباروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں، حتیٰ کہ ان کاروباروں کے لیے بھی جن کے پاس مضبوط کاروباری ماڈلز اور مارکیٹ میں بہتر امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ اثاثہ جات پر مبنی روایتی ضمانتی ماڈلز سے ہٹ کر کیش فلو، آمدنی کے ذرائع، کاروباری پائیداری اور مارکیٹ پوزیشننگ کی بنیاد پر قرضوں کی جانچ کا نظام اپنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پورا بینکاری شعبہ کیش فلو پر مبنی قرضہ جات کو فروغ دے، جہاں فنانسنگ کے فیصلے محض اثاثوں کے بجائے کاروبار کی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت سے منسلک ہوں۔

پاکستان بزنس فورم کے صدر نے کم ضمانت پر مبنی فنانسنگ سکیموں کے دائرہ کار میں توسیع، ایس ایم ایز کلائنٹس کے لیے خصوصی ڈیسک کے قیام اور طریقہ کار کو سادہ بنانے کی بھی سفارش کی اور کہا کہ خصوصاً خواتین کے ملکیتی کاروباروں کو ترجیح دی جائے تاکہ قرضوں تک زیادہ جامع اور مساوی رسائی کو یقینی بنائی جا سکے۔