جاپان پر چین کے ٹریول بائیکاٹ کا بھاری معاشی اثر،تعلقات میں کشیدگی سے بھاری نقصان کا خدشہ

ٹوکیو۔19نومبر (اے پی پی):جاپان اور چین کے درمیان تعلقات میں حالیہ کشیدگی اور چین کی جانب سے اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ٹریول ایڈوائزری کے اجرا سے جاپان کی معیشت کو لاکھوں ڈالر کے نقصان کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کے چند دن کے …

ٹوکیو۔19نومبر (اے پی پی):جاپان اور چین کے درمیان تعلقات میں حالیہ کشیدگی اور چین کی جانب سے اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ٹریول ایڈوائزری کے اجرا سے جاپان کی معیشت کو لاکھوں ڈالر کے نقصان کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کے چند دن کے اندر ہی ٹوکیو کی ٹور کمپنی ایسٹ جاپان انٹرنیشنل ٹریول سروس کو سال کے باقی مہینوں کی 80 فیصد بکنگز منسوخ ہونے کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہ کمپنی بنیادی طور پر چینی گروپ ٹورز پر انحصار کرتی ہے اور یہ چینی رد عمل کے پہلے متاثرین میں شامل ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک ایسا ردعمل جو دنیا کی چوتھی بڑی معیشت جاپان کو بڑا جھٹکا دے سکتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اس وقت بڑھا جب جاپانی وزیراعظم سنائے تکائچی نے تائیوان سے متعلق ایسا بیان دیا جس پر چین نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ، چین نے جواب میں اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا، جس کے بعدفلائٹ بکنگز کی بڑی تعداد منسوخ ہوئی اور جاپان میں ٹورزم سے متعلق کمپنیوں کے شیئرز میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

جاپان کی ایک ٹوور کمپنی کے نائب صدر یو جن ژن نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے 2012 کے جزائر کے تنازع جیسے بحران بھی دیکھے ہیں مگر اس بار صورتحال زیادہ سنگین محسوس ہو رہی ہے، اگر یہ معاملات ایک دو ماہ چلیں تو ہم سنبھل سکتے ہیں لیکن اگر حالات مزید خراب ہوئے تو ہمارے کاروبار پر بہت بڑا اثر پڑے گا۔

ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کے مطابق سیاحت جاپان کی 7 فیصد معیشت کا حصہ ہے جبکہ چین اور ہانگ کانگ سے جاپان آنے والے سیاح کل سیاحوں کا 20 فیصد بنتے ہیں اور بائیکاٹ کے باعث جاپان کی معیشت کو 2.2 ٹریلین ین (14.2 ارب ڈالر) سالانہ نقصان کا خدشہ ہے ۔

اب تک 10 سے زائد چینی ایئرلائنز نے 31 دسمبر تک جاپان جانے والی پروازوں کی ریفنڈ آفر کر دی ہے جب کہ تجزیہ کاروں کے مطابق 5 لاکھ سے زائد ٹکٹس منسوخ ہو چکے ہیں۔تاکائچی کے تائیوان سے متعلق بیان کے جواب میں چین کے سفارتکاروں اور سرکاری میڈیا نے سخت رد عمل دیا ہے۔