ٹوکیو۔4مارچ (اے پی پی):جاپان کی تاریخ کی سب سے زیادہ اعزاز یافتہ خاتون اولمپئن اور 10اولمپک تمغے جیتنے والی سپیڈ سکیٹر میہو تاکاگی نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیدرلینڈز میں ہونے والی آئندہ عالمی چیمپئن شپ کے بعد کھیل کو خیرباد کہہ دیں گی۔کیوڈو کے مطابق 31 سالہ میہو تاکاگی اپنے کیریئر کا اختتام جاپان کی کامیاب ترین اولمپک سپیڈ سکیٹر کے طور پر کریں گی۔ عالمی سطح پر …
جاپان کی دس مرتبہ اولمپک میڈل جیتنے والی سپیڈ سکیٹر میہو تاکاگی کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

مزید خبریں
ٹوکیو۔4مارچ (اے پی پی):جاپان کی تاریخ کی سب سے زیادہ اعزاز یافتہ خاتون اولمپئن اور 10اولمپک تمغے جیتنے والی سپیڈ سکیٹر میہو تاکاگی نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیدرلینڈز میں ہونے والی آئندہ عالمی چیمپئن شپ کے بعد کھیل کو خیرباد کہہ دیں گی۔کیوڈو کے مطابق 31 سالہ میہو تاکاگی اپنے کیریئر کا اختتام جاپان کی کامیاب ترین اولمپک سپیڈ سکیٹر کے طور پر کریں گی۔
عالمی سطح پر وہ مجموعی اولمپک تمغوں کے لحاظ سے صرف نیدرلینڈز کی آئرین وُسٹ کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔میہو تاکاگی نے بدھ کو انسٹاگرام پر جاپانی زبان میں لکھا کہ وہ اپنی سکیٹنگ زندگی پر لکیر کھینچ رہی ہیں۔
عالمی سپیڈ سکیٹنگ چیمپئن شپ ہیئرین فین میں جمعرات سے اتوار تک منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وطن واپسی پر وہ اپنے مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کریں گی۔ انگریزی میں اپنے پیغام میں میہو تاکاگی نے لکھا کہ وہ سب کو یاد کریں گی، لیکن اس ماحول میں آخری ریس کھیلنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر لمحے سے لطف اندوز ہوں گی اور اختتامی لائن عبور کرنے تک بھرپور مقابلہ کریں گی۔
میہو تاکاگی 1500 میٹر کا عالمی ریکارڈ ایک منٹ 49.83 سیکنڈ کے ساتھ اپنے نام رکھتے ہوئے ریٹائر ہوں گی، جو انہوں نے 2019 میں قائم کیا تھا۔انہوں نے صرف پندرہ برس کی عمر میں 2010 کے وینکوور اولمپکس میں ڈیبیو کیا، جہاں وہ خواتین کی ایک ہزار میٹر دوڑ میں آخری نمبر پر رہیں۔ 2014 کے سوچی اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہ کر پانا ان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس کے بعد انہوں نے ڈچ کوچ یوہان ڈی وِٹ کی زیر نگرانی تربیت حاصل کی۔
2018 کے پیونگ چانگ اولمپکس میں انہوں نے ٹیم پرسوٹ میں طلائی،15 سو میٹر میں چاندی اور ایک ہزار میٹر میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ اسی سال وہ آل راؤنڈ عالمی چیمپئن شپ جیتنے والی پہلی جاپانی خاتون بھی بنیں۔2022 کے بیجنگ اولمپکس میں انہوں نے ایک ہزار میٹر میں طلائی جبکہ پانچ سو، پندرہ سو اور ٹیم پرسوٹ میں چاندی کے تمغے حاصل کیے۔
حال ہی میں فروری میں منعقدہ میلان کورٹینا گیمز میں انہوں نے پانچ سو، ایک ہزار اور ٹیم پرسوٹ میں کانسی کے تین تمغے جیتے، تاہم پندرہ سو میٹر میں چھٹے نمبر پر رہیں، جو ان کا پسندیدہ مقابلہ تھا۔








