جب تک افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور دراندازی کے خاتمہ کی گارنٹی نہیں دی جاتی آپریشن ’’غضب للحق ‘‘جاری رہے گا، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور دراندازی کے خاتمہ کی گارنٹی نہیں دی جاتی آپریشن ’’غضب للحق ‘‘جاری رہے گا، 2022ء کے بعد افغان طالبان رجیم میں ساڑھے 8 ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنے، ترلائی میں امام بارگاہ، بنوں اور باجوڑ میں دہشت …

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور دراندازی کے خاتمہ کی گارنٹی نہیں دی جاتی آپریشن ’’غضب للحق ‘‘جاری رہے گا، 2022ء کے بعد افغان طالبان رجیم میں ساڑھے 8 ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنے، ترلائی میں امام بارگاہ، بنوں اور باجوڑ میں دہشت گرد حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملنے پر اسے بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خطہ کی موجودہ صورتحال پر ہر ایک کو تشویش ہے، آج وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی سربراہان کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خطہ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطہ میں امن و استحکام کیلئے کاوشیں کی ہیں، ہندوستان کے ساتھ تعلقات اچھے نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے کبھی جارحیت کی پالیسی اختیار نہیں کی، خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کے باوجود ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی تاہم جب بھی پاکستان پر کہیں سے بھی جارحیت ہوئی تو اس کا بھرپور جواب دیا گیا، 10 مئی کو بھارتی جارحیت پر جو جواب اسے دے دیا گیا وہ عالمی سطح پر ریکارڈ کا حصہ ہے، اس میں بھی پہل بھارت کی جانب سے کی گئی جس کا ہم نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کیلئے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، روس، امریکہ کے افغانستان پر حملوں کے دوران پاکستان کی ہمدردیاں افغانستان کے ساتھ رہیں، ہم نے کئی دہائیاں لاکھوں افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی جو تاریخ کا حصہ ہے، ان تمام اچھائیوں کے باوجود موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے، 2022ء سے افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ساڑھے 8 ہزار سے زائد شہادتیں ہوئیں جن میں سیکورٹی فورسز اور سویلین شامل ہیں، ان کارروائیوں سے طالبان حکومت کو باضابطہ آگاہ کیا جاتا رہا،

افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے ثبوت انہیں فراہم کئے جاتے رہے تاہم طالبان حکومت نے انہیں روکنے کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے، قطر اور استنبول میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوئے، ہم نے دہشت گردی کیلئے سرزمین کے استعمال کو روکے جانے پر تمام ممکنہ وسائل کی فراہمی کی بھی پیشکش کی تاہم اس کے باوجود ہمیں یہ یقین دہانی نہیں کرائی گئی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت کا ہاتھ ہے، ہم نے طالبان کو اس کے ثبوت فراہم کئے، حالیہ ترلائی خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، باجوڑ اور بنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث تھے، اس تمام صورتحال کے بعد افغانستان کو یہ پیغام دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ اگر یہاں پاکستان میں دہشت گردی اور شہادتیں ہوں گی تو اس نقصان کا خمیازہ افغانستان کو بھی بھگتنا پڑے گا، وہاں پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں پر آپریشن کیا جا رہا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آ رہے ہیں، یہ آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا، ہم نے افغانستان سے دراندازی کو ہمیشہ کیلئے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے افغانستان کے تین دورے کئے، وزیر دفاع نے افغانستان کا دورہ کرکے افغان طالبان کو یہ باور کرایا کہ افغانستان سے دہشت گردی کیلئے دراندازی روکی جائے تاہم اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، جب تک افغانستان یہ یقین دہانی نہیں کراتا کہ اس کی سرزمین پاکستان پر حملوں اور دراندازی کیلئے استعمال نہیں ہو گی، آپریشن جاری رہے گا۔ وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہم نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جبکہ خامنہ ای کی شہادت کی بھی واضح الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یہ پیغام ہے کہ ایران اور خلیج میں تنائو کم کیا جائے، کشیدگی سے تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے جبکہ آنے والے وقتوں میں اس کے بھیانک اثرات نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطہ میں امن و استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے موجودہ صورتحال پر تمام پارلیمانی لیڈروں کی رائے جاننے کیلئے پارلیمانی لیڈروں کا ان کیمرہ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری، اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران نے شرکت کی اور اپنی مثبت آراء سے آگاہ کیا، پاکستان آنے والے دنوں میں خطہ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پالیسی میں ان تجاویز کو شامل کرے گا، وزیراعظم کی ہدایت پر ہم نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر جا کر انہیں اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، وہاں پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بھی موجود تھے،

انہیں بھی اجلاس کی دعوت دی تاہم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اپوزیشن نے اس کا بائیکاٹ کیا، یہ کسی جماعت کا ذاتی ایجنڈا نہیں بلکہ قومی سلامتی اور پاکستان کی بہتری کی بات تھی کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹنا ہے، ہر ملک کی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح اس کا اپنا ملک ہوتا ہے اور پاکستان بھی ہماری خارجہ پالیسی میں اولین ہے، ہمیں اپوزیشن کی رائے درکار ہے، وہ اس ایوان میں اپنی رائے دے تاکہ قوم تک یہ پیغام جائے کہ اس معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن متحد ہیں، پاکستان کی سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے۔