جدید ٹیکنالوجی کی بدولت گندم کی پیداوار کو دوگنا کیا جا سکتا ہے،ڈاکٹر اقرار احمد

فیصل آباد۔ 07 نومبر (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ تصدیق شدہ بیج،، بروقت بوائی، متوازن کھادوں کے استعمال،جڑی بوٹیوں کے تدارک، مؤثر تھریشننگ و دیگر ٹیکنالوجی کی بدولت گندم کی مجموعی پیداوار کو دوگنا کیا جا سکتا ہے جبکہ پیداواریت کے اضافے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات بروئے کار لانا ہوں گے۔ان خیالات کا …

فیصل آباد۔ 07 نومبر (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ تصدیق شدہ بیج،، بروقت بوائی، متوازن کھادوں کے استعمال،جڑی بوٹیوں کے تدارک، مؤثر تھریشننگ و دیگر ٹیکنالوجی کی بدولت گندم کی مجموعی پیداوار کو دوگنا کیا جا سکتا ہے جبکہ پیداواریت کے اضافے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات بروئے کار لانا ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباداور محکمہ زراعت توسیع حکومت پنجاب کے تعاون سے 8 روزہ گندم بڑھاؤ مہم کے اورینٹیشن میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مہم کا آغازمنگل سے کردیا گیا ہے جس کے تحت زرعی یونیورسٹی کے 33ہزار طلبہ و اساتذہ کا ہراول دستہ صوبے کے چھ ڈویژنزگجرات،فیصل آباد،لاہور،سرگودھا،ساہیوال اور گوجرانوالہ کے کھیت کھیت کھلیان کھلیان جا کر کاشتکاروں کو زرعی ماہرین کی سفارشات سے آگاہ کرے گا تا کہ گندم کی اوسط فی ایکڑ پیداوار بڑھا کر زرعی خوشحالی کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس برس بھی یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ متعدد ڈویژنز بشمول گجرات،فیصل آباد،لاہور،سرگودھا،ساہیوال اور گوجرانوالہ کے دیہاتوں کا رخ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو1966میں بدترین گندم کے بحران کا سامنا کرنا پڑاتاہم صرف دو تین سال میں ہی میکسی پاک ورائٹی کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں تین سے چار گنا اضافے کی وجہ سے خودکفالت حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس فصل میں فی ایکڑ اضافے کو ممکن نہ بنایا گیا تو دہائی میں ملکی ضروریات پورا کرنے کیلئے آٹھ سے دس ملین ٹن گندم درآمد کرنا پڑے گی جس سے نہ صرف بھوک و افلاس بڑھے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ غذائیت کی کمی کا بحران بھی شدت اختیار کر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی چالیس فیصد عوام غذائیت کی کمی کا شکار ہے جس سے نبردآزما ہونے کیلئے بہترین خوراک اور طرززندگی کو اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 15فیصد گندم بوسیدہ ہارویسٹروں کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے ہارویسٹروں کی مرمت کو یقینی بنانے کیلئے پالیسی ترتیب دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور محکمہ زراعت توسیع پنجاب کی مہم کی وجہ سے صوبہ بھر میں گذشتہ برس90فیصد بوائی نومبر کے مہینے میں تکمیل کو پہنچی تاہم ہمیں اسے وسط نومبر میں مکمل کرنے کیلئے آگاہی فراہم کرنا ہو گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک 10ارب ڈالر کی خوردنی اشیا درآمد کرتا ہے جو کہ ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ قدرت نے وطن عزیز کو بہترین آب و ہواسے نوازا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ محنتی اور جفاکش کاشتکاروں تک جدید ٹیکنالوجی کو پہنچا کر مستحکم زرعی ترقی کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشی حالت کو بھی بہتر بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ زرعیہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ آؤٹ ریچ پروگرام میں بھی وسعت لائی ہے تاکہ پیداوار میں اضافے کو یقینی بنا کر فوڈ سکیورٹی کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی اوسط فی ایکڑ گندم کی پیداوار صرف 32 من تک محدود ہے جبکہ ترقی پسند کاشتکار 70 من تک فی ایکڑ پیداوار حاصل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف زیادہ قوت مدافعت رکھنے والی گندم کی نئی اقسام متعارف کروائی جارہی ہیں۔ اس موقع پر پرووائس چانسلر/ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خاں، ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد عبدالحمید، ڈائریکٹر زراعت توسیع لاہور شیر محمد شراوت، ڈائریکٹر سوائل اینڈ انوائرمنٹل سائنسز ڈاکٹر مرتضیٰ سندھو، پرنسپل آفیسر تعلقات عامہ ڈاکٹر محمد جلال عارف، ڈاکٹر عامرمقصود و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

 

مزید خبریں