برلن۔12اگست (اے پی پی):جرمنی میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد پر حملوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ جرمن پولیس نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد پر حملوں کے 519 واقعات ریکارڈ کئے۔ یہ اعدادوشمار حکومت کی …
جرمنی میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پناہ گزینوں کے خلاف حملوں میں واضح کمی

مزید خبریں
برلن۔12اگست (اے پی پی):جرمنی میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد پر حملوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ جرمن پولیس نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد پر حملوں کے 519 واقعات ریکارڈ کئے۔ یہ اعدادوشمار حکومت کی جانب سے بائیں بازو کی ڈائی لنکے (دی لیفٹ) نامی پارٹی کی جانب سے پارلیمان میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پیش کیے گئے۔
ان اعدادوشمار کے مطابق تفتیش کاروں نے گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں پناہ گزینوں پر 1,155 حملے ریکارڈ کئے تھےجبکہ 2023 کے دوران ان حملوں کی مجموعی تعداد 2,450 تھی۔ تاہم جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 2024 کے اعداد و شمار عارضی ہیں اور بعد میں آنے والی اور ترمیم شدہ رپورٹس کی وجہ سے کافی حد تک تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ان کیسز میں پناہ کے متلاشی افراد اور پناہ گزینوں کے خلاف رہائش کے مراکز کے باہر کئے گئے حملے اور مجرمانہ جرائم جیسے کہ نفرت پر اکسانا اور شدید جسمانی نقصان پہنچانا وغیرہ شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے پارلیمان میں داخل کرائے گئے جواب کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں ایسے واقعات میں 46 افراد زخمی ہوئے، جن میں6بچے بھی شامل تھے۔ پولیس ان میں سے زیادہ تر یعنی 88 فیصد حملوں کا ذمہ دار جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی سوچ سے منسوب افراد کو ٹھہراتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں پر 69 حملے بھی ہوئے۔ ایک مقامی جرمن اخبار کے مطابق اس نوعیت کے سب سے زیادہ حملے مشرقی ریاستوں سیکسنی اور تھورنگیا میں ہوئے، جہاں ریاستی انتخابات یکم ستمبر کو ہونے والے ہیں۔








