جرمنی میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے نئے قوانین منظور

برلن۔ 16 نومبر (اے پی پی)جرمن پارلیمنٹ نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے نئے قوانین کی منظوری دے دی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے گزشتہ روز نئے قوانین کی منظوری دی ہے جس سے منی لانڈرنگ پر قابو پایا جا سکے گا۔ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی طرف سے یہ اقدام منی لانڈرنگ پر قابو پانے سے متعلق یورپی یونین کی کوششوں …

برلن۔ 16 نومبر (اے پی پی)جرمن پارلیمنٹ نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے نئے قوانین کی منظوری دے دی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے گزشتہ روز نئے قوانین کی منظوری دی ہے جس سے منی لانڈرنگ پر قابو پایا جا سکے گا۔ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی طرف سے یہ اقدام منی لانڈرنگ پر قابو پانے سے متعلق یورپی یونین کی کوششوں کا حصہ ہے۔ نئے ضوابط کے تحت جرمنی میں پراپرٹی کے کاروبار، سونے کی تجارت اور نیلام گھروں میں رقوم کی ترسیل کی نگرانی سخت کی جائے گی۔جرمن حکومت کے فنانشل انٹیلیجنس یونٹکے مطابق جرمنی میں گزشتہ سال منی لانڈرنگ کے 77 ہزار سے زائد کیس سامنے آئے جن میں 3,800 کا تعلق پراپرٹی کے شعبے سے تھا،ملک میں پراپرٹی کے کاروبار میں بڑی خامیاں اور کمزوریاں ہیں جن کے باعث اس شعبے میں جرائم اور کرپشن کے پیسے کی سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔کرپشن پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق 2017ء میں جرمنی کے ریئل سٹیٹ سیکٹر میں 30 ارب یورو کی مشتبہ رقوم کی سرمایہ کاری ہوئی، اس کام میں مختلف جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے علاوہ اٹلی کا مافیا نمایاں رہا اور بڑی صفائی سے اپنا لوٹ مار کا پیسہ جرمنی کی پراپرٹی مارکیٹ میں لگایا۔نئے قوانین کے تحت قیمتی دھاتوں کی خرید و فروخت اور مہنگے فن پاروں کی نیلامی کے لیے رقوم کی ترسیل کی بھی نگرانی کی جائے گی تاکہ کرپشن اور جرائم کا پیسہ معیشت میں داخل نہ ہو سکے۔جرمنی کی پراپرٹی مارکیٹ میں دیگر ملکوں سے لوگ کرپشن اور لوٹ مار کا پیسہ لگاتے آئے ہیں لیکن اب منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام کے حوالے سے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔