جسٹس سپریم کورٹ عائشہ اے ملک کی چین میں منعقدہ بین الاقوامی عدالتی ورکشاپ میں پاکستان کی نمائندگی، موسمیاتی مقدمات سے متعلق ملکی عدالتی تجربات اور ابھرتے ہوئے قانونی رجحانات پر روشنی ڈالی

جسٹس سپریم کورٹ عائشہ اے ملک کی چین میں منعقدہ بین الاقوامی عدالتی ورکشاپ میں پاکستان کی نمائندگی، موسمیاتی مقدمات سے متعلق ملکی عدالتی تجربات اور ابھرتے ہوئے قانونی رجحانات پر روشنی ڈالی

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کی جسٹس عائشہ اے ملک نے چین میں منعقدہ بین الاقوامی عدالتی ورکشاپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے موسمیاتی مقدمات (کلائمیٹ لٹیگیشن) سے متعلق ملکی عدالتی تجربات اور ابھرتے ہوئے قانونی رجحانات پر روشنی ڈالی۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک نے چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ ’’جوڈیشل سروسز فار گرین اینڈ لو کاربن ٹرانزیشن اینڈ ڈویلپمنٹ‘‘ کے عنوان سے بین الاقوامی عدالتی تربیتی پروگرام اور ورکشاپ میں شرکت کی۔

پانچ روزہ پروگرام کا انعقاد سپریم پیپلز کورٹ آف دی پیپلز ریپبلک آف چائنا نے کیا جس میں مختلف ممالک کے ججوں اور عدالتی ماہرین نے شرکت کی۔ورکشاپ کے دوران جسٹس عائشہ اے ملک نے کلیدی خطاب اور پریزنٹیشن میں پاکستان میں موسمیاتی مقدمات سے متعلق عدالتی نظائر، موسمیاتی حکمرانی میں بنیادی حقوق پر مبنی نقطہ نظر، ادارہ جاتی جوابدہی اور کلائمیٹ ایڈجوڈیکیشن کے ابھرتے ہوئے رجحانات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور عدالتی فیصلہ سازی میں صنفی حساسیت کو شامل کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ورکشاپ کے موقع پر جسٹس عائشہ اے ملک نے سپریم پیپلز کورٹ آف چائنا اور ژی جیانگ ہائر پیپلز کورٹ کے ججوں سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں موسمیاتی مقدمات، ماحولیاتی حکمرانی اور پائیدار ترقی سے متعلق مختلف ممالک کے عدالتی تجربات اور قانونی طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک کی پیش کردہ آراء کو شرکا نے بھرپور پذیرائی دی جبکہ پاکستان کی موسمیاتی عدالتی نظائر، ماحولیاتی جوابدہی اور کلائمیٹ جسٹس کے حوالے سے کردار پر بین الاقوامی سطح پر خصوصی دلچسپی کا اظہار بھی کیا گیا۔سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں شرکت پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے بین الاقوامی عدالتی تعاون، علمی تبادلے اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے قانونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاس ہے۔