جمعہ 8 مئی کو علماء کرام آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی اور استحکام پاکستان کے حوالے سے یوم تشکر کے طور پر منائیں گے، علماء

جمعہ 8 مئی کو علماء کرام آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی اور استحکام پاکستان کے حوالے سے یوم تشکر کے طور پر منائیں گے، علماء

اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام معرکہ حق میں کامیابی پر منعقدہ علما و مشائخ کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ معرکہ حق کے دوران افواجِ پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت دشمن کی جارحیت کا جس جرات، حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ مہارت سے جواب دیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ آئندہ جمعہ 8 مئی کو علماء کرام آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی اور استحکام پاکستان کے حوالے سے یوم تشکر کے طور پر منائیں گے۔

کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ خصوصی اجلاس علمائے کرام اور مشائخ عظام وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام وفاقی وزیر مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی زیر صدارت امنعقد ہوا۔ یہ اجلاس معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران افواج پاکستان کی بے مثال کامیابیوں کے پیش نظر قومی سطح پر افواجِ پاکستان کی جرات و بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور قومی یکجہتی و عزم کو مزید مستحکم بنانے کی غرض سے منعقد کیا گیا ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے اس امر کا بھرپور اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت اور فیلڈ مارشل حافظ سید محمدعاصم منیر کی عسکری بصیرت میں جس عزم، اتحاد اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کیا۔

علمائے کرام و مشائخ عظام پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد میں اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اس مصمم عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اگر دشمن کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت یا مہم جوئی کا اعادہ کیا گیا تو پوری قوم متحد ہو کر افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی اور ملک کی خودمختاری، سالمیت اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قربانی دے گی۔ افواجِ پاکستان کی قربانیاں، شہداء کی عظیم داستانیں اور غازیوں کی جرات پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگرچہ اس نشست کا بنیادی محور قومی سلامتی اور مذکورہ تاریخی معرکہ ہے تاہم علمائے کرام و مشائخ عظام اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ رہتے ہوئے ملک میں مذہبی ہم آہنگی، اتحادِ امت، اور اعتدال و رواداری کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے، تاکہ داخلی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی، افواجِ پاکستان کی کامیابی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

مزید خبریں