جمہوریہ کانگو میں استحکام اور شہریوں کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ کے امن مشن کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے،پاکستان

پاکستان نے جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے پیش نظر اس ملک میں اقوام متحدہ کے امن مشن (ایم او این یو ایس سی او) کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے تاکہ سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ا

اقوام متحدہ۔27مارچ (اے پی پی):پاکستان نے جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے پیش نظر اس ملک میں اقوام متحدہ کے امن مشن (ایم او این یو ایس سی او) کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے تاکہ سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جمہوریہ کانگو کی صورتحال پر بحث کے دوران کہا کہ جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کا امن مشن (ایم او این یو ایس سی او) استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اسے مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشن کا تجربہ، لاجسٹک صلاحیت اور اہم آبادیاتی مراکز میں موجودگی امن کے قیام کے لیے نہایت اہم ہیں۔

یہ بحث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس وقت ہوئی جب مشرقی کانگو میں جھڑپیں خاص طور پر روانڈا کے حمایت یافتہ باغی گروپ M23 اور حکومتی حامی افواج کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ پاکستانی مندوب نے شمالی اور جنوبی کیوو صوبوں میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ فریم ورک اور واشنگٹن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کے باوجود M23 کی کارروائیاں جاری ہیں، جو امن عمل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد 2773 پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی، باغیوں کے انخلا اور جمہوریہ کانگو کی خودمختاری کے احترام کی ضرورت ہے۔

پاکستانی مندوب نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فنڈنگ میں کمی کے باعث امن مشن کے2 ہزار 674 اہلکاروں،فوجی ماہرین ،پولیس اہلکاروں اور سویلین عملے کو واپس بلایا جا چکا ہےیا ان کی تعداد کم کی گئی ہے، جس سے مشن کے مینڈیٹ پر عملدرآمد اور اہلکاروں کی سلامتی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن کو مزید ذمہ داریاں دی جاتی ہیں تو اس کے لیے مناسب وسائل بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دیرپا سیاسی حل کے حصول کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہم افریقی یونین کی قیادت میں کی جانے والی سہولت کاری کی کوششوں کی مرکزی حیثیت اور قطر کے ذریعہ دوحہ فریم ورک کے تحت، امریکا کے ذریعہ واشنگٹن معاہدے اور گریٹ لیکس ریجن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ یہ تمام اقدامات باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے تحت جاری رہیں اور ہمیشہ جمہوریہ کانگو کی خودمختاری، قومی اتحاد اور سرزمین کی سالمیت کا مکمل احترام کریں۔