"وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ معمول کا حصہ ہے، تاہم آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج کو خوش دلی اور جمہوری روایات کے مطابق تسلیم کیا جانا چاہیے۔”
جمہوری نظام میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ معمول کا حصہ ہے، آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج کو خوش دلی سے تسلیم کیا جائے، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ معمول کا حصہ اور سیاست کا لازمی پہلو ہے تاہم الزام برائے الزام کی روش اختیار نہیں کی جانی چاہیے، آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے تعمیر و ترقی، عوامی خدمت اور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ دیا، مسلم لیگ (ن) کو ملنے والی سادہ اکثریت عوامی اعتماد کا اظہار ہے جسے جمہوری روایات کے مطابق خوش دلی سے تسلیم کیا جانا چاہئے۔
پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہوئی، مسلم لیگ (ن) سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو جو کامیابی عطا کی ہے، یہ ہمارے سیاسی مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں عوام نے بھرپور انداز میں حصہ لیا، سیاسی جماعتوں نے نہ صرف جلسے جلوس منعقد کیے بلکہ آزاد جموں و کشمیر اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی بھرپور سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جلسوں، جلوسوں، کارنر میٹنگز سمیت مختلف سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے انتخابی عمل کو کامیاب بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی پر سب سے پہلے مبارکباد دے کر ایک مثبت جمہوری روایت قائم کی، انہیں بھی جمہوری اقدار کو فروغ دیتے ہوئے برداشت، تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے تعمیر و ترقی، سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور عوامی خدمت کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا تھا، لوگوں نے اس بنیاد پر فیصلہ کرنا تھا کہ کون سی جماعت نے کشمیر اور اس کے عوام کو اپنی ترجیحات میں رکھا ہے، کس جماعت کا عوامی خدمت کا ٹریک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات سندھ و سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جہاں ان کی حکومت ہے وہاں بھی کئی معاملات توجہ طلب ہیں، 2024ء کے انتخابات پر سوالات اٹھائے گئے تاہم یہ سوال سندھ کے حوالے سے بھی اٹھائے جا سکتے ہیں، اگر کسی انتخابی عمل پر اعتراضات اور الزامات عائد کیے جاتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے ساتھ ناقابل تردید شواہد اور ثبوت بھی پیش کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم واضح طور پر نظر آئی، پیپلز پارٹی کے رہنما وہاں موجود رہے جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھرپور انتخابی مہم چلائی جس کے نتائج بھی سامنے آئے۔ اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت، قائد محمد نواز شریف اور ان کی پوری ٹیم نے انتخابی جلسے کیے، بھرپور مہم چلائی اور مسلم لیگ (ن) کے حق میں پیدا ہونے والی سیاسی فضا کو پوری دنیا نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ معمول کا حصہ ہے اور یہ سیاست کا ایک لازمی پہلو ہے تاہم الزام برائے الزام کی روش اختیار نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاملے پر اعتراضات یا الزامات عائد کیے جائیں تو ان کے ساتھ قابل قبول شواہد اور ٹھوس ثبوت بھی پیش کیے جانے چاہئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں کامیابی پر انہیں مبارکباد دی تھی، اسی طرح پیپلز پارٹی کو بھی مسلم لیگ (ن) کو مبارکباد دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں مہاجر نشست پر ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی پوزیشن کمزور تھی، پیپلز پارٹی کی جانب سے نہ ڈور ٹو ڈور مہم نظر آئی، نہ کارنر میٹنگز ہوئیں اور نہ ہی انتخابی جلسے کیے گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی نشستوں کے حوالے سے سروے بھی ہوئے اور سیاسی ماہرین نے اپنی آراء پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم بھرپور انداز میں چلائی گئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے جلسے کیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی اختلاف اور نوک جھونک جمہوری عمل کا حصہ ہے تاہم الزام تراشی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ مسلم لیگ (ن) کو سادہ اکثریت حاصل ہو چکی ہے تو اسے خوش دلی سے تسلیم کرنا چاہیے، اگر الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ ان کے پاس نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ شواہد۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جماعت کا منشور کمزور تھا یا اس نے کشمیر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا نہیں کیا تو عوام نے اس کا فیصلہ اپنے ووٹ کے ذریعے کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت بالخصوص محمد نواز شریف نے ہمیشہ کشمیر کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی کشمیر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت آزاد جموں و کشمیر میں ترقی کا نعرہ لے کر گئی تھی، آپ کے منشور میں کیا تھا؟ کون سے ایسے منصوبے تھے جو آپ نے اپنے صوبے میں اپنی حکومت کے ذریعے مکمل کئے؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ عوامی خدمت، فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی مسلم لیگ (ن) کا منشور اور وژن رہا ہے جس کی بنیاد پر عوام نے اسے ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کسی جماعت کی بہتر اور کسی کی کمزور ہو سکتی ہے، گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی نے بھرپور مہم چلائی، جلسے کیے اور اس کا نتیجہ سامنے آیا، اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم زیادہ موثر رہی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات پر الزامات لگانے والی جماعت کی کشمیر میں اپنی حکومت اور انتظامیہ موجود تھی، یہ سب کو معلوم ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے لئے نگراں سیٹ اپ نہیں ہوتا بلکہ موجودہ حکومت اور انتظامیہ کے تحت ہی انتخابی عمل مکمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اپنی ہی انتظامیہ اور اپنی حکومت پر سوال اٹھا رہا ہے تو اس پر وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے نتائج کو خوش دلی سے تسلیم کرنا چاہیے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔ الزام برائے الزام اور بغیر ثبوت الزامات کی کوئی حیثیت نہیں، عوام بخوبی جانتے ہیں کہ تعمیر و ترقی کس نے کی اور کس نے وقت ضائع کیا۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھیں اور سیاسی عمل کو کشمیر میں مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔








