لاہور ۔ یکم فروری (اے پی پی ) جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے قومی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کا دورہ مشکل تھا، وہاں کی کنڈیشنز پر کارکردگی دینا آسان نہیں تھا تاہم ٹیم مینجمنٹ کی سپورٹ کی وجہ سے بیٹنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مستقبل میں ابھی بہتر کارکردگی دے …
جنوبی افریقہ کا دورہ مشکل تھا، ٹیم مینجمنٹ کی سپورٹ سے دورہ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا،امام الحق
لاہور ۔ یکم فروری (اے پی پی ) جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے قومی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کا دورہ مشکل تھا، وہاں کی کنڈیشنز پر کارکردگی دینا آسان نہیں تھا تاہم ٹیم مینجمنٹ کی سپورٹ کی وجہ سے بیٹنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مستقبل میں ابھی بہتر کارکردگی دے کر ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش کروں گا۔ جنوبی افریقہ سے وطن واپسی پر لاہور ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں تنقید سے نہیں گھبراتا بلکہ تنقید کرنے والوں کو جواب اپنی بہتر کارکردگی سے دیتا ہوں۔ امام الحق کا کہنا تھا کہ سنچری بنانے کے بعد ٹینشن میں کچھ اشارے ہوئے، کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے لیکن ان کا کوئی غلط مطلب نہیں تھا، سب میرے لئے محترم ہیں اور سب کی عزت کرتا ہوں۔ میرا کام میدان میں بیٹ کے ذریعے پرفارم کرنا ہے۔ کوشش کرتا ہوں کہ ہر اننگز میں زیادہ سے زیادہ رنز کروں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ کی تیاری کیلئے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے بعد آسٹریلیا اور انگلینڈ سے میچز بھی کھیلنے ہیں۔ اس لئے ٹف ٹیموں کے خلاف کھیلنے سے ہمیں میگا ایونٹ کیلئے اچھی پریکٹس کا موقع مل جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک اور سرفراز کی کپتانی میں کوئی فرق نہیں، دونوں اچھی کپتانی کرتے ہیں۔ امام الحق نے کہا کہ جنوبی افریقہ کا پہلا تجربہ تھا، وہاں جاکر کھیلنے کا کافی مزہ آیا، ٹیسٹ میچز میں بہت کچھ سیکھا، ون ڈے میچز میں کافی بہتر پرفارمنس دی۔ ایک میچ میں بارش کی وجہ سے رزلٹ پر فرق پڑا، بارش نہ ہوتی تو وہ میچ پاکستان جیت سکتا تھا۔ مجموعی طور پر سب لڑکوں کی کارکردگی میں کافی بہتر آئی۔ ٹی ٹونٹی میں پاکستان دنیا کی نمبر ون ٹیم ہے اور سارے لڑکے زبردست پرفارمنس دے رہے ہیں، اس لئے میرے نزدیک جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی ٹیم ٹی ٹونٹی سیریز ضرور جیتنے میں کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے ملک میں آٹھ میچز سے پوری دنیا کو اچھا پیغام ملے گا کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے۔ یہاں پر میچز سے شائقین کے ساتھ کھلاڑی بھی لطف اندوز ہوں گے ۔









