جنوبی ایشیاء میں موسمیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے،افتخار علی ملک

لاہور۔22فروری (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے خبردار کیا ہے کہ تقریبا دو ارب آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیاء موسمیاتی تبدیلی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خطہ دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اتوار کے روز جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خطہ اس …

لاہور۔22فروری (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے خبردار کیا ہے کہ تقریبا دو ارب آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیاء موسمیاتی تبدیلی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خطہ دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اتوار کے روز جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خطہ اس وقت ایک طرف جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور دوسری طرف ماحولیاتی نازک صورتحال کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ تھرڈ پول کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے پاکستان اور بھارت دونوں کی آبی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ افغانستان میں مسلسل خشک سالی نقل مکانی اور غربت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپال میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب پہاڑی آبادیوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، جبکہ بنگلہ دیش کو سمندر کی بلند ہوتی سطح کا سامنا ہے جو ملک کے تقریبا پانچویں حصے کو زیرِ آب لا سکتی ہے، اسی طرح سری لنکا میں بھی ساحلی علاقے متاثر ہو رہے ہیں۔

افتخار علی ملک نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیاء دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے ، یہاں کے ممالک مزید دشمنی اور تنازعات کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ خطے کے عوام مشترکہ دریائوں، مون سون کے نظام، پہاڑی سلسلوں اور ڈیلٹائوں سے جڑے ہوئے ہیں، جو اس وقت شدید دبائو کا شکار ہیں۔ انہوں نے ورلڈ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی اثرات کے باعث صدی کے وسط تک جنوبی ایشیاء اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریبا10 فیصد تک کھو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی نصف کے قریب آبادی زراعت سے وابستہ ہے جو شدید گرمی، پانی کی کمی اور غیر متوقع بارشوں کے باعث شدید خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، دہلی اور ڈھاکہ جیسے بڑے شہر سموگ اور پانی کی قلت سے دوچار ہیں جبکہ صحت کے نظام، مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں اور گرمی سے متعلق امراض کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔

افتخار علی ملک نے مزید کہا کہ پاکستان میں مون سون کی بارشیں تباہ کن شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں اور زراعت و روزگار شدید خطرات سے دوچار ہیں،گلیشیئرز کے پگھلنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پاکستان اور نیپال میں ہزاروں خاندان غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں موسمیاتی آفات بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بن رہی ہیں جبکہ افغانستان میں موسمیاتی تبدیلی خشک سالی اور غذائی قلت کو بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جنوبی اور دیگر ایشیائی ممالک کو فوری طور پر باہمی تعاون کے ذریعے ایک جامع، مربوط اور موثر حکمت عملی تیار کرنا ہوگی تاکہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے، معیشتوں کو نقصان سے بچایا اور خطے کے عوام کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔