جنوبی کوریا کا شمالی کوریا کی سرحدی اشتعال انگیزیوں پر سخت جواب دینے کا اعلان

جنوبی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے سرحد پر فوجی سرگرمیاں بڑھانے کی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے پیانگ یانگ کی جانب سے سرحد کے قریب مزید ٹیکٹیکل حملہ آور ہتھیار تعینات کرنے اور جنوبی کوریا کی طرف لاؤڈ سپیکر نشریات دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں …

سیئول۔20اکتوبر (اے پی پی):جنوبی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے سرحد پر فوجی سرگرمیاں بڑھانے کی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے پیانگ یانگ کی جانب سے سرحد کے قریب مزید ٹیکٹیکل حملہ آور ہتھیار تعینات کرنے اور جنوبی کوریا کی طرف لاؤڈ سپیکر نشریات دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت دفاع نے کہا کہ فوجی حد بندی لائن کے قریب جنوبی کوریا کی لاؤڈ سپیکر نشریات اور انتباہی فائرنگ دراندازی روکنے اور حد بندی لائن عبور کرنے والے شمالی کوریائی فوجیوں کو واپس جانے پر مجبور کرنے کے لیے جائز دفاعی اقدامات ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر شمالی کوریا نے ان اقدامات کو مزید اشتعال انگیزی کے جواز کے طور پر استعمال کیا تو اسے فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔جنوبی کوریا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جن ینگ سیونگ نے بھی اگلے مورچوں پر فوجی تیاریوں کا جائزہ لیا اور غیر فوجی علاقے میں آپریشنل صلاحیت مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کے دفاعی اقدامات کو اشتعال انگیزی قرار دینا اور کشیدگی کی ذمہ داری جنوبی کوریا کی فوج پر ڈالنا ناقابل قبول ہے۔یہ کشیدگی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ کے اس الزام کے بعد بڑھی ہے کہ جنوبی کوریا کی فوج نے سرحدی حصے کو مضبوط بنانے کے دوران شمالی کوریائی اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے انتباہی فائرنگ کی۔ انہوں نے جنوبی کوریا کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر نشریات دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر بھی خبردار کیا۔

جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا اپریل 2024 سے سرحد پر بارودی سرنگیں بچھانے اور رکاوٹیں تعمیر کرنے میں مصروف ہے، جبکہ رواں سال شمالی کوریائی اہلکار تقریباً 50 مرتبہ فوجی حد بندی لائن عبور کر چکے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ انتباہی فائرنگ کو غلطی سے حملہ سمجھنے کے نتیجے میں جوابی کارروائی کی نوبت آ سکتی ہے۔