جنوبی کوریا کی چِپ ساز کمپنی ایس کے ہائنکس نے نیسڈیک میں شاندار آغاز کیا، جہاں مصنوعی ذہانت سے متعلق چِپس کی بڑھتی عالمی طلب نے سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی حاصل کی۔
جنوبی کوریا کی چِپ ساز کمپنی ایس کے ہائنکس کا نیسڈیک میں شاندار آغاز، مصنوعی ذہانت کی بڑھتی طلب سے سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی

مزید خبریں
نیویارک ۔11جولائی (اے پی پی):جنوبی کوریا کی معروف سیمی کنڈکٹر کمپنی ایس کے ہائنکس نے 26.5 ارب امریکی ڈالر مالیت کے امریکن ڈپازٹری ریسیپٹسکے اجرا کے بعد نیسڈیک اسٹاک ایکسچینج میں اپنی تجارت کا باضابطہ آغاز کردیا۔
شنہوا کے مطابق یہ کسی غیر ملکی کمپنی کی جانب سے امریکی مارکیٹ میں حصص کی تاریخ کی سب سے بڑی فروخت قرار دی جا رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس سے بڑی سرمایہ کاری صرف رواں سال اسپیس ایکس کی فنڈنگ رہی ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق حصص کی بک بلڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی اور طلب دستیاب حصص سے سات گنا سے بھی زیادہ رہی۔نیویارک کی سرمایہ کاری کمپنی گریٹ ہل کیپیٹل کے چیئرمین تھامس ہیز نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر شعبہ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایس کے ہائنکس اور اس کے مشیروں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔اگرچہ سیول اسٹاک مارکیٹ میں جمعہ کو کمپنی کے حصص 0.27 فیصد کمی کے ساتھ 21 لاکھ 80 ہزار وان پر بند ہوئے اور حالیہ بلند ترین سطح سے تقریباً 25 فیصد نیچے آگئے، تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران کمپنی کے حصص کی مجموعی مالیت میں 600 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔جنوبی کوریا کے شہر ایچیون میں قائم ایس کے ہائنکس کی تیار کردہ جدید میموری چِپس مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال ہونے والے طاقتور گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یو ) میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جنہیں اینویڈیا اور اے ایم ڈی جیسی معروف کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق حاصل ہونے والی سرمایہ کاری کو پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔کمپنی نے پہلی سہ ماہی کی مالی رپورٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ میموری ٹیکنالوجی میں بہتری سے مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات مزید مؤثر اور کم لاگت ہوں گی، جس کے نتیجے میں ان خدمات کا دائرہ وسیع ہوگا اور میموری چپس کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔دوسری جانب ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر چِپ ساز کمپنیوں کی کاروباری کارکردگی سرمایہ کاروں کی توقعات پر پوری نہ اتری تو بلند قیمتوں پر ٹریڈ ہونے والے ان کے حصص میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جس سے سرمایہ کاری کے رجحان پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔







