میکسیکو صدر کا امریکی سکیورٹی اداروں کو یکطرفہ کارروائیوں سے گریز کا مشورہ

میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ میکسیکو کی سرزمین پر یکطرفہ سکیورٹی کارروائیوں سے گریز کرے، کیونکہ ایسے اقدامات ملکی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

میکسیکو سٹی۔11جولائی (اے پی پی):میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے امریکہ کی حکومت اور اس کے سکیورٹی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ میکسیکو کی سرزمین پر یکطرفہ کارروائیوں سے گریز کریں، کیونکہ ایسے اقدامات ملکی خودمختاری میں مداخلت تصور کیے جاتے ہیں اور تشدد میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

شنہوا کے مطابق روزانہ کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر شینبام نے کہا کہ جولائی 2024 میں منشیات فروش اسمائیل "ایل مایو” زامبادا کی امریکہ منتقلی جیسے یکطرفہ اقدامات کے نتیجے میں سینالوا کارٹیل کے اندر اختلافات پیدا ہوئے، جس سے میکسیکو میں تشدد میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی معاملات میں تعاون باہمی رابطے، ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت ہونا چاہیے، جبکہ جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔صدر شینبام نے کہا، "باہمی تعاون اور رابطہ ہی بہتر راستہ ہے، کیونکہ جب دونوں ممالک مل کر کام کرتے ہیں تو نتائج ہمیشہ یکطرفہ اقدامات کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ایک جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کارروائی کے لیے کسی دوسرے مجرم گروہ سے سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔