سیئول۔8دسمبر (اے پی پی):جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے مواخذے کے لیے ہونے والی ووٹنگ سے پہلے ملک میں مارشل لگانے پر معافی مانگ لی ہے، تاہم صدر نے مستعفی ہونے سے گریز کیا ہے۔ وی او اے کے مطابق مقامی ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں صدر یون سک یول نے مواخذے کے لیے ہونے والی ووٹنگ سے پہلے ملک میں مارشل لگانے پر معافی …
جنوبی کوریا کے صدر نے مواخذے کے لیے ہونے والی ووٹنگ سے قبل ملک میں مارشل لگانے پر معافی مانگ لی

مزید خبریں
سیئول۔8دسمبر (اے پی پی):جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے مواخذے کے لیے ہونے والی ووٹنگ سے پہلے ملک میں مارشل لگانے پر معافی مانگ لی ہے، تاہم صدر نے مستعفی ہونے سے گریز کیا ہے۔ وی او اے کے مطابق مقامی ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں صدر یون سک یول نے مواخذے کے لیے ہونے والی ووٹنگ سے پہلے ملک میں مارشل لگانے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ مارشل لگانے کی کوشش نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ منگل کو رات گئے مارشل لا لگانے کا فیصلہ مایوس کن تھا۔ اس دوران شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات اور پریشانی پر مجھے افسوس ہے۔جنوبی کوریائی صدر دو منٹ کی تقریر کے بعد معافی مانگنے والے انداز میں کیمرے کے سامنے جھک گئے اور چلے گئے۔ واضح رہے کہ جنوبی کوریا کے صدر نے منگل کی شب ملک میں ‘ایمرجنسی مارشل لا’ نافذ کر دیا تھا۔ صدر نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اُن کے پاس آئین کے تحفظ کے لیے اس طرح کا قدم اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
انہوں نے خطاب میں ملک کی اپوزیشن پر پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے، شمالی کوریا کے ساتھ ہمدردی رکھنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے حکومت کو مفلوج کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔بعدازاں جنوبی کوریا میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے صدر یون سک یول کے مواخذے کی تحریک ایوان میں جمع کرا دی تھی ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یون کا مواخذہ ہو جاتا ہے تو انہیں فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا اور ملک کی آئینی عدالت اس معاملے پر غور کے بعد اُنہیں ہٹانے یا نہ ہٹانے سے متعلق فیصلہ کرے گی، اس عمل میں کئی ہفتے اور مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔








