جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر کشمیری وفد اور یورپی کشمیری تارکین وطن کا احتجاج، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور کشمیر سے متعلق قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر کشمیری وفد اور یورپی کشمیری تارکین وطن کا احتجاج، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور کشمیر سے متعلق قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

مزید خبریں
جنیوا۔18ستمبر (اے پی پی):کشمیری وفد اور یورپ میں مقیم کشمیری تارکین وطن نے جمعہ کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے فوری خاتمے اور مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی دیرینہ قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے کشمیر میں بھارت کی ’’سامراجی‘‘ موجودگی کے سنگین اثرات کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کراتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کی موثر بین الاقوامی نگرانی اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔
مظاہرین نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو ناقابل تنسیخ اور ناقابل مذاکرات حق قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ان قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے موثر اقدامات کرے جن میں جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔مظاہرین نے خطے میں بھارت کے ’’سامراجی عزائم‘‘ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی ہندو قوم پرستانہ پالیسی جس میں زمینوں پر قبضہ، مذہبی معاملات میں مداخلت اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں شامل ہیں، کا مقصد علاقے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے بھارت کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے)، آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) سمیت جابرانہ قوانین کے مسلسل استعمال کی بھی مذمت کی۔
مظاہرین نے کہا کہ بھارتی حکام ان قوانین کو سول سوسائٹی کے کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سیاسی رہنمائوں کی آواز دبانے کے لیے بار بار استعمال کر رہے ہیں۔مظاہرین نے بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اختلاف رائے کو منظم انداز میں دبانے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنمائوں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو مسلسل ہراسانی، دھمکیوں اور طویل حراست کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پابندیوں پر مبنی قوانین اور جبری اقدامات کے استعمال سے خوف کی فضا پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سیاسی سرگرمیوں، آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کے جائز استعمال پر شدید قدغنیں عائد ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ سیاسی رہنمائوں کی طویل قید اختلاف رائے کو دبانے اور سیاسی و انسانی حقوق میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
کشمیری سیاسی رہنما یاسین ملک اور دیگر قیدیوں کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ قانونی اور عدالتی طریقہ کار کو کشمیری عوام کے سیاسی حقوق کی وکالت کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالتی عمل کے غلط استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں کے مقدمات، حراستی حالات اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی کڑی نگرانی کرے۔مظاہرین نے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی جانب سے اپنے ترقیاتی اقدامات کی تشہیر کی بھی مذمت کی اور انہیں ایک وسیع تر آبادکاری پر مبنی نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے جاری عسکریت کاری، جس میں مذہبی زیارت گاہوں اور زیارتی راستوں کی عسکریت کاری بھی شامل ہے، ماحولیاتی تباہی میں اضافے اور ماحولیاتی طور پر نازک ہمالیائی خطے میں موسمیاتی خطرات کو بڑھا رہی ہے۔مظاہرہ عالمی سطح پر احتساب، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی جانب سے موثر اقدامات کے مطالبے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا تاکہ کشمیری عوام کے اپنے سیاسی مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کے حق کی عملی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔م
ظاہرے سے آزاد کشمیر سابق وزیر چوہدری پرویز اشرف، کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی کشمیر پیس فورم فارنس کے صدر زاہد ہاشمی ، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، ڈاکٹر راجہ سجاد لطیف، شمیم شال، ڈاکٹر شگفتہ اشرف اور دیگر کشمیری نمائندوں نے خطاب کیا۔








