معیشت استحکام سے سرمایہ کاری اور پیداواری نمو کی جانب گامزن ہے، خرم شہزاد

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام اور بیرونی شعبے میں مضبوطی کے بعد سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمی، برآمدات اور پیداواری نمو کے نئے مرحلے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، زرمبادلہ کے ریکارڈ ذخائر، حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی، ترسیلات زر اور خدمات و آئی ٹی برآمدات میں اضافے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری اور ملکی کیپٹل …

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام اور بیرونی شعبے میں مضبوطی کے بعد سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمی، برآمدات اور پیداواری نمو کے نئے مرحلے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، زرمبادلہ کے ریکارڈ ذخائر، حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی، ترسیلات زر اور خدمات و آئی ٹی برآمدات میں اضافے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری اور ملکی کیپٹل مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی سرگرمی سے معاشی استحکام کی عکاسی ہورہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اگست اور ستمبر 2026ء کے معاشی و سرمایہ کاری اشاریوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 11 ستمبر کو 21.4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جو مالی سال 2022-23 کے بحران کے دوران ریکارڈ کیے گئے ذخائر کے مقابلے میں کئی گنا سے زائد ہیں، ملکی درآمدات کے لیے زرمبادلہ کا احاطہ تین ماہ سے تجاوز کر گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بیرونی شعبے میں بھی بہتری کا تسلسل برقرار ہے اور اگست میں حسابات جاریہ کا خسارہ صرف 98 ملین ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 70 فیصد کم ہے۔جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں حسابات جاریہ کا خسارہ 543 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 36 فیصد کم ہے صنعتی سرگرمیوں میں بھی بہتری کے آثار نمایاں ہیں اور جولائی میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 9.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اہم صنعتی شعبوں میں پیداوار میں اضافے سے مینوفیکچرنگ سرگرمی میں جاری بہتری کی عکاسی ہوتی ہے۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ کے ایس ای-100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں کے منافع میں مالی سال 2025-26 کے دوران سالانہ بنیادوں پر تقریبا 15 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ دس سال کی اوسط شرح کے قریب ہے۔ اسی طرح کاروباری سرگرمیوں میں توسیع کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں سالانہ بنیادوں پر 45 فیصد اضافہ ہوا اور ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد تقریبا 312,000 تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کا سلسلہ بھی مضبوط رہا اور اگست میں ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی طور پر 7.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔خرم شہزاد نے بتایاکہ خدمات اور ڈیجیٹل شعبے کی برآمدات میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اگست میں خدمات کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 29 فیصد، آئی ٹی برآمدات میں 17 فیصد جبکہ فری لانسرز کی آمدنی میں 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو معیشت میں ڈیجیٹل شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے،براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی رفتار بہتر ہوئی ہے اور اگست میں 316 ملین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 80 فیصد جبکہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 77 فیصد زیادہ ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور مالی شمولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے ذریعے مجموعی طور پر موصول ہونے والی رقوم 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔عالمی سطح پر پاکستان کی پائیدار مالیاتی انسٹرومنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششوں کو بھی پذیرائی مل رہی ہے اور پاکستان کو اپنے پانڈا بانڈ کے اجراء پر گلوبل کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ ملکی کیپٹل مارکیٹ میں بھی گہرائی پیدا ہو رہی ہے اور انویسٹ پاک کے ریٹیل سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھ کر 12800 ہوگئی ہے۔

مالی سال 2026-27 کے دوران اب تک پانچ آئی پی اوز مکمل ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں 11 آئی پی اوز کیے گئے تھے۔انہوں نے مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام اور بیرونی لچک میں بہتری سے آگے بڑھتے ہوئے اعتماد، سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو استحکام، لچک، اعتماد، سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات، روزگار اور پائیدار معاشی نمو کے تسلسل سے تعبیر کیا۔