گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں نویں دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا شاندار آغاز ہو گیا۔ کانفرنس کا موضوع ’’عہدِ نبوی ﷺ میں عرف کی رعایت: معاصر مسائل و اطلاقات‘‘ ہے، جس میں ترکیہ، مصر، اردن اور پاکستان سے ممتاز علماء، اساتذہ، محققین اور طالبات شرکت کر رہی ہیں
جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں نویں بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا آغاز، ترکیہ، مصر، اردن اور پاکستان سے ممتاز علماء، محققین کی شرکت
سیالکوٹ۔ 04 نومبر (اے پی پی):گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں نویں دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا شاندار آغاز ہو گیا۔ کانفرنس کا موضوع ’’عہدِ نبوی ﷺ میں عرف کی رعایت: معاصر مسائل و اطلاقات‘‘ ہے، جس میں ترکیہ، مصر، اردن اور پاکستان سے ممتاز علماء، اساتذہ، محققین اور طالبات شرکت کر رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، چیئرمین فارورڈ سپورٹس خواجہ مسعود اختر اور بین الاقوامی مہمانوں سمیت ملک بھر کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، علماء، محققین اور طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ادارہ عربی و علومِ اسلامیہ اور سیرت سنٹر آف ایکسیلنس، گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ نے نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی اور سیرت اسٹڈیز سینٹر سیالکوٹ کے اشتراک سے کیا ہے۔ افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور کلامِ اقبال سے ہوا۔چیئرپرسن ادارہ عربی و علومِ اسلامیہ و سیرت سنٹر آف ایکسیلنس ڈاکٹر سیدہ سعدیہ نے ابتدائیہ کلمات میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس علمی و تحقیقی سرگرمی کا بنیادی مقصد عہدِ نبوی ﷺ میں عرف اور معاشرتی روایات کی اہمیت کو سمجھنا اور عصرِ حاضر کے مسائل کے تناظر میں سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر علمی مکالمے اور تحقیقی تبادلے کے ذریعے سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں موجودہ دور کے معاشرتی اور عملی مسائل کا جائزہ لینا کانفرنس کا اہم مقصد ہے۔
ترکیہ سے تشریف لائے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عبد الہمت بریسیک نے اپنے خطاب میں گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کو مسلسل نویں بین الاقوامی سیرت کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کانفرنس کے مرکزی موضوع پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے عہدِ نبوی ﷺ میں عرف کی رعایت اور موجودہ دور میں اس کی علمی و عملی اہمیت کو اجاگر کیا۔وائس چانسلر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر نے اپنے خطاب میں تمام قومی و بین الاقوامی مہمانوں کو شہرِ اقبال میں خوش آمدید کہا اور مسلسل نویں بین الاقوامی سیرت کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین اور ادارہ عربی و علومِ اسلامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ ہماری انفرادی، اجتماعی اور معاشرتی زندگی کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی میں سیرت سنٹر آف ایکسیلنس کا قیام اور سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے جاری علمی و تحقیقی سرگرمیاں اس عزم کا مظہر ہیں کہ نئی نسل کو تعلیماتِ نبوی ﷺ سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ ان پر تحقیق کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر نے اپنی والدہ کے نام سے قائم کردہ انڈومنٹ فنڈ کے تحت پی ایچ ڈی اسکالر مس لبنیٰ کو سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر سال کی بہترین تحقیقی کاوش انجام دینے پر تعریفی لیٹر اور دو سمسٹرز کی فیس کا چیک بھی پیش کیا۔
اس اقدام کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور سیرتِ طیبہ کے حوالے سے تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جو یونیورسٹی کی جانب سے ایک قابلِ تحسین پیش رفت ہے۔افتتاحی تقریب کے بعد معزز مہمانوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر کے ہمراہ سیرت سنٹر آف ایکسیلنس اور سنٹر آف ایکسیلنس فار علامہ محمد اقبال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مہمانوں کو دونوں مراکز کے قیام، علمی ماحول اور تحقیقی مقاصد سے آگاہ کیا گیا۔ مہمانوں نے دونوں مراکز کے قیام اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے وائس چانسلر کی کاوشوں اور حسنِ ذوق کی تعریف کی۔ انہوں نے اس امر کو قابلِ تحسین قرار دیا کہ ان مراکز کے ذریعے نئی نسل کو حضور اکرم ﷺ کی سیرت و تعلیمات اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے افکار سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ ان موضوعات پر تحقیقی کام کو فروغ دینے کے لیے مؤثر علمی پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے۔









