پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع میں خواتین کے مسائل کے حل کیلئے کھلی کچہریوں کے انعقاد کا فیصلہ

صوبائی حکومت کی ہدایات پر خواتین کو درپیش مسائل کے مؤثر اور پائیدار حل، ان کے قانونی حقوق کے تحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر میں ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی خواتین کی خصوصی کھلی کچہریوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پشاور۔ 04 نومبر (اے پی پی):صوبائی حکومت کی ہدایات پر خواتین کو درپیش مسائل کے مؤثر اور پائیدار حل، ان کے قانونی حقوق کے تحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر میں ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی خواتین کی خصوصی کھلی کچہریوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کھلی کچہریوں کا انعقاد اگلے ہفتے سے کیا جائے گا۔ اس حوالے سے خواتین صوبائی محتسب رباب مہدی نے کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں خواتین کو درپیش مسائل، ان کے قانونی حقوق اور مسائل کے مستقل حل کےلیے عملی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سینئر صحافی اور اے وی ٹی خیبر چینل کے جنرل منیجر جمشید علی خان بھی موجود تھے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع میں خواتین کو درپیش مسائل، بالخصوص وراثتی جائیداد میں قانونی حق کی فراہمی، ہراسانی اور دیگر سماجی و قانونی مسائل کے حل کے لیے خصوصی کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جائے گا جہاں خواتین اپنے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے پیش کر سکیں گی اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں گے۔

کھلی کچہریوں کے انعقاد سے قبل خواتین میں آگاہی پیدا کرنے کےلیے خصوصی مہم بھی چلائی جائے گی جس کی ذمہ داری اے وی ٹی خیبر چینل کے جنرل منیجر جمشید علی خان کو سونپی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اپنے حقوق اور دستیاب سہولیات سے آگاہ ہو سکیں۔ کمشنر نے پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو خواتین کی کھلی کچہریوں کے انعقاد کےلیے ضروری انتظامات مکمل کرنے اور متعلقہ محکموں کے افسران کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں خواتین کی خصوصی کھلی کچہری اگلے ہفتے نشتر ہال پشاور میں منعقد ہوگی جس میں کمشنر پشاور ڈویژن، ڈپٹی کمشنر پشاور، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ، ان کے مسائل کا بروقت حل اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کریں گے۔