چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے لندن میں سابق آرچ بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبی سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔
حافظ محمد طاہر اشرفی کا مضبوط بین المذاہب مکالمے، مقدس اقدار کے احترام اور مذہبی منافرت، انتہاپسندی و دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور

مزید خبریں
لندن۔13ستمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے لندن میں سابق آرچ بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبی سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں موجودہ عالمی صورتحال، بالخصوص دنیا بھر میں امن کے قیام کی کوششوں، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی قائدین کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور انتہاپسندی و دہشت گردی کے خلاف مذہبی قیادت کے عملی کردار اور مشترکہ کوششوں کو مؤثر بنانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اہم مذہبی شخصیات اور بااثر قیادت کو عالمی امن کے مقصد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ عالمی قیادت کو امن کے لیے اکٹھا کرنے کی کوششیں کی جائیں گی اور امن، مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ابتدائی سطح پر رابطوں کا آغاز کیا جائے گا۔ سابق آرچ بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبی نے علاقائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص امریکہ، ایران اور عرب و اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس وقت فوری طور پر امن کی ضرورت ہے اور پاکستان اس حوالے سے قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ جسٹن ویلبی نے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، مکالمے، برداشت اور امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو ہیوبَرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن 2026 حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر مختلف مذاہب کے مذہبی قائدین کے درمیان مکالمے اور روابط کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی قیادت کو مقدس اقدار کے احترام کے فروغ، مذہبی منافرت اور انتہاپسندی کے خاتمے، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور پائیدار عالمی امن کے قیام میں مؤثر اور عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔







