سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز(سی پی ڈی آئی )کے زیرِ اہتمام’’ ہائیڈروجنیٹڈ آئلز کے استعمال سے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے مضر اثرات اور اس پر پابندی کیلئے میڈیا کا کردار ‘‘کے عنوان سے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرینِ صحت، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی
ہائیڈروجنیٹڈ آئلز انسانی صحت کیلئے خطرناک، پابندی کیلئے مؤثر قانون سازی ناگزیر

مزید خبریں
کراچی۔ 13 ستمبر (اے پی پی):سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز(سی پی ڈی آئی )کے زیرِ اہتمام’’ ہائیڈروجنیٹڈ آئلز کے استعمال سے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے مضر اثرات اور اس پر پابندی کیلئے میڈیا کا کردار ‘‘کے عنوان سے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرینِ صحت، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ورکشاپ میں پاکستان میں جزوی طور پر ہائیڈروجنیٹڈ آئلز (پی ایچ اوز)کے استعمال سے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے مضر اثرات اور ملک میں ان پر قانون سازی کے ذریعے پابندی عائد کرنے کے حوالے سے میڈیا کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام منیجر سی پی ڈی آئی شہزاد اقبال نے کہا کہ جزوی طور پر ہائیڈروجنیٹڈ آئلز انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں، جن میں موجود ٹرانس فیٹس مختلف خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ٹرانس فیٹس اور پی ایچ اوزکے نقصانات سے آگاہ کرنے کے لیے موثر آگاہی مہم کی ضرورت ہے جبکہ میڈیا اس سلسلے میں بنیادی اور موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر زبالہ لطفی، اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ کراچی اور ڈاکٹر اظفر سلیم نے کہا کہ خوراک میں موجود صنعتی ٹرانس فیٹس انسانی صحت کے لیے ایک اہم خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ایچ اوزکے مسلسل استعمال سے دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں سمیت صحت کے دیگر مسائل کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سی پی ڈی آئی کی پروگرام اسسٹنٹ حفضہ بی بی نے ورکشاپ کے شرکا ء سے کہا کہ عام صارف اکثر اس بات سے لاعلم ہوتا ہے کہ مختلف تیار شدہ اور بیکری مصنوعات میں استعمال ہونے والے بعض اجزاء اس کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سی پی ڈی آئی مختار احمد علی نے کہا کہ پاکستان میں پی ایچ اوزکے مسئلے کو صرف صحت کے معاملے تک محدود نہیں کرنا چاہیے، دنیا کے مختلف ممالک میں صنعتی ٹرانس فیٹس کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، پاکستان میں بھی انسانی صحت کے تحفظ کے لیے موثر پالیسی اور قانون سازی ناگزیر ہے۔ سینئر تجزیہ کار اور صحافی شازیہ رضوان نے بھی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایچ اوز(PHOs )کے نقصانات کے بارے میں عام شہریوں کو سادہ اور قابلِ فہم انداز میں معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔







