پاکستان ریلوے نے 6 سال میں 21 ارب روپے مالیت کی 2,826 ایکڑ اراضی واگزار کرا لی

پاکستان ریلوے نے ملک بھر میں ریلوے نیٹ ورک کے خلاف جاری جامع انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت گزشتہ 6 مالی سالوں 2020-21 سے 2025-26 کے دوران 21.178 ارب روپے مالیت کی 2,826 ایکڑ تجاوز شدہ اراضی واگزار کرا لی

اسلام آباد۔13ستمبر (اے پی پی):پاکستان ریلوے نے ملک بھر میں ریلوے نیٹ ورک کے خلاف جاری جامع انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت گزشتہ 6 مالی سالوں 2020-21 سے 2025-26 کے دوران 21.178 ارب روپے مالیت کی 2,826 ایکڑ تجاوز شدہ اراضی واگزار کرا لی۔وزارت ریلوے کے ایک عہدیدار نے اے پی پی کو بتایا کہ پاکستان ریلوے کی مجموعی اراضی 168,858 ایکڑ ہے جس میں سے 70 فیصد سے زائد اراضی آپریشنل مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریلوے کی تقریباً 9.1 فیصد اراضی لیز پر دی گئی ہے جبکہ 4.97 فیصد اراضی نجی افراد کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ اسی طرح 2.36 فیصد اراضی سرکاری محکموں کے جبری قبضے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اراضی کے اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کرنے کے لیے پاکستان ریلوے نے پراپرٹی ا ینڈ لینڈ رولز 2023 نافذ کیے ہیں جن کے تحت ریلوے اراضی مسابقتی اور غیر مسابقتی بولی کے ذریعے لیز پر دی جا سکتی ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ریلوے اراضی کو مختصر،درمیانی اور طویل مدتی جبکہ غیرمسابقتی لیز کی تین اقسام کے تحت لیز پر دیا جاتا ہے۔ مختصر مدتی لیز تجارتی اور زرعی مقاصد کے لیے اوپن نیلامی کےذریعے دی جاتی ہیں جبکہ اہم تجارتی اراضی پراپرٹی اینڈ لینڈ ڈائریکٹوریٹ اور ریڈامکو کےذریعے درمیانی اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں کے لیے پیش کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ غیر مسابقتی لیز سرکاری محکموں کو عوامی فلاح اوربنیادی ڈھانچے کے ضروری منصوبوں، جن میں سڑکیں،سکول، صحت کی سہولیات، پائپ لائنز اور آپٹیکل فائبر نیٹ ورکس شامل ہیں، کے لیے دی جاتی ہیں۔ نئے قواعد کے نفاذ کے بعد گزشتہ تین سال کے دوران محکمہ نے مختصر مدتی اراضی لیز سے 23.017 ارب روپے آمدن حاصل کی ہے۔عہدیدار نےکہا کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ اراضی کی واپسی کےلیےکوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ انسدادِ تجاوزات کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیےصوبائی چیف سیکرٹریز اور انسپکٹرز جنرل پولیس سے درخواست کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سہ ماہی انسدادِ تجاوزات منصوبے تیار کر لیے گئے ہیں جبکہ قابضین کو قبضہ آرڈیننس 1965 کے تحت قانونی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں جن میں انہیں غیر قانونی طور پر زیر قبضہ اراضی 14 روز کے اندر خالی کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے پاکستان ریلوے لینڈ مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم (پی آر ایل ایم آئی ایس) کے ذریعے اپنی اراضی کا ریکارڈ ڈیجیٹل اور جیوریفرنس بھی کر دیا ہےجسے صوبائی ڈیٹا بیسز کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اورموبائل ایپلی کیشن کے ذریعے حقیقی وقت میں نگرانی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری محکموں کی جانب سےریلوےاراضی پر غیر مجاز قبضے کو ریلوے لینڈ پالیسی کے تحت لیز کے ذریعے باقاعدہ بنایا جا رہا ہے جبکہ تجارتی تجاوزات کا جائزہ اصلاحی پالیسی کے تحت لیا جا رہا ہے جس میں لیز معاہدے، پیشگی پریمیم اوربقایاجات کی وصولی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے اراضی پر غیر قانونی قبضے اور تجاوزات کے خلاف متعلقہ قوانین وضوابط کے تحت سختی سے کارروائی کی جاتی ہے اور نئی تجاوزات کی روک تھام کے لیے باقاعدگی سے آپریشنز جاری رکھے جاتے ہیں