حریت رہنما الطاف حسین وانی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست ’’سست رفتار نسل کشی” کا مقصد کشمیریوں کی شناخت، تاریخ اور ثقافت کو مٹانا ہے۔
حریت رہنما الطاف حسین وانی کا جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ
جنیوا ۔23ستمبر (اے پی پی):حریت رہنما الطاف حسین وانی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست ’’سست رفتار نسل کشی” کا مقصد کشمیریوں کی شناخت، تاریخ اور ثقافت کو مٹانا ہے۔
یہاں جاری بیان کے مطابق ورلڈ مسلم کانگریس کی نمائندگی کرتے ہوئے حریت رہنماء الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس میں ’’آئٹم 4 ‘‘ پر ہونے والی عام بحث کے دوران ایک مدلل اور اثر انگیز خطاب کیا۔کونسل سے اپنے خطاب میں الطاف وانی نے بھارتی ریاست پر “سست رفتار نسل کشی” کا الزام لگایا، جس کا مقصد کشمیریوں کی شناخت، تاریخ اور ثقافت کو مٹانا ہے۔
انہوں نے اس بحران کی ہولناک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، 10,000 افراد جبری گمشدگیوں کا شکار ہوئے اور 8,000 سے زائد ماورائے عدالت قتل ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ورلڈ مسلم کانگریس نے جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور تشدد کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی نشاندہی کی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام مظالم مکمل سرپرستی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔
جسمانی تشدد سے ہٹ کر انہوں نے کونسل کو اس چیز سے آگاہ کیا جسے انہوں نے “آئینی دہشت گرد” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی خود مختاری کو ختم کرنا دراصل آبادیاتی انجینئرنگ اور ’’سیٹلر کالونیزم‘‘ (آبادیاتی استعمار) کی راہ ہموار کرنا ہے، جسے ’’ترقی‘‘ کے نام پر ڈھال کر مسلم اکثریتی خطے کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔الطاف وانی نے کہا کہ یہ ہندوتو ایجنڈے کا عملی نمونہ ہے۔ انہوں نے نصابی کتب کی تبدیلی اور تاریخ کی جعل سازی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی منصوبہ بند کوشش ہے جس کا مقصد کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنا دینا ہے۔
انہوں نے عدلیہ کی بھی تنقید کی کہ وہ قانون کی محافظ ہونے کے بجائے اب بی جے پی حکومت کے مفادات کی خدمت کر رہی ہے۔ ورلڈ مسلم کانگریس نے بین الاقوامی برادری کی خاموشی کو چیلنج کرتے ہوئے واضح کیا کہ خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ جرم میں شراکت داری ہے۔ ورلڈ مسلم کانگریس کا مطالبہ ہے کہ یواین ایچ آر سی محض بیانات سے آگے بڑھے اور مزید مظالم کو روکنے کے لیے جارح ریاست کا محاسبہ کرے۔








