ریاض ۔28دسمبر (اے پی پی):یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ حضرموت میں جو کچھ ہوا وہ سیاسی اختلاف سے بڑھ کر ہے۔العربیہ کے مطابق رشاد العلیمی نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہا کہ صوبہ حضرموت میں جو کچھ ہوا اس نے مرحلہ وار کشیدگی کی صورت اختیار کر لی اور اسے محض سیاسی اختلاف قرار نہیں …
حضرموت میں جو کچھ ہوا وہ سیاسی اختلاف سے بڑھ کر ہے، شہریوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی فوجی نقل و حرکت سے براہ راست نمٹا جائے ، سربراہ یمنی صدارتی کونسل
ریاض ۔28دسمبر (اے پی پی):یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ حضرموت میں جو کچھ ہوا وہ سیاسی اختلاف سے بڑھ کر ہے۔العربیہ کے مطابق رشاد العلیمی نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہا کہ صوبہ حضرموت میں جو کچھ ہوا اس نے مرحلہ وار کشیدگی کی صورت اختیار کر لی اور اسے محض سیاسی اختلاف قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ یکطرفہ اقدامات کا ایک ایسا راستہ ہے جس کا آغاز انتظامی فیصلوں سے ہوا، پھر عسکری نقل و حرکت ہوئی اور آخر کار قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر متفقہ عبوری مرحلے کے حوالہ جات کے خلاف بغاوت تک جا پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس نقل و حرکت کا مقصد طاقت کے زور پر نئی حقیقت مسلط کرنا اور قائم شدہ اتفاق رائے اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرموت میں کشیدگی کا دائرہ وسیع ہو کر غیل بن یمین، الشحر اور الدیس الشرقیہ کے اضلاع تک پھیل گیا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ نے زمین پر کنٹرول کے توازن کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نعرے کو بطور ڈھال استعمال کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاملہ خصوصی طور پر ریاست اور اس کے باقاعدہ اداروں کی ذمہ داری ہے اور اس فریم ورک سے باہر کوئی بھی نقل و حرکت امن کی خدمت نہیں کرتی بلکہ ایسے حفاظتی خلا پیدا کرتی ہے جو استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔رشاد العلیمی نے کشیدگی سے وابستہ انسانی اثرات کا بھی ذکر کیا اور ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں سویلین متاثرین، عوامی و نجی املاک پر حملوں اور حضرموت اور مہرہ میں سماجی امن و معاشرتی ڈھانچے کو لاحق براہ راست خطرے کے ساتھ ساتھ ریاست کی قانونی حیثیت کے کمزور ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیفنس کونسل کے گزشتہ اجلاس میں اس کشیدگی کو عبوری مرحلے کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور ریاست کے اداروں کے خلاف بغاوت قرار دیا گیا اور شہریوں کے تحفظ، امن کے قیام اور مزید خونریزی روکنے کے لیے ریاست کے واجب الادا فرض پر زور دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت نے نیشنل ڈیفنس کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ’’ اتحاد برائے بحالیِ شرعیت ‘‘ سے صوبہ حضرموت میں شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کی باقاعدہ درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ مشترکہ افواج کی کمان نے خونریزی روکنے اور صورتحال کو معمول پر لانے کی خاطر فوری جواب دیا ہے۔ رشاد العلیمی نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے خلاف یا شہریوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی فوجی نقل و حرکت سے براہ راست نمٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم آہنگی فریم ورک کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کی قیادت میں مشترکہ کوششوں کو کامیاب بنانا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس ہم آہنگی کا مقصد یہ بھی ہے کہ عبوری کونسل کی افواج حضرموت اور مہرہ کے فوجی کیمپوں سے نکل جائیں اور انہیں افواج کے حوالے کر دیں اور مقامی حکام کو اپنے آئینی و قانونی اختیارات استعمال کرنے کے قابل بنایا جائے۔ انہوں نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے اس بیان کو سراہا جس میں انہوں نے یمن کے استحکام اور ریاستی اداروں کی بحالی کے لیے عوام کی امنگوں کے حصول کی خاطر اپنی مخلصانہ خواہش کا اظہار کیا تھا۔صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ نے زور دیا کہ مسئلہ جنوب کا حل ریاست کی ایک مستقل وابستگی رہے گی کیونکہ یہ تاریخی اور سماجی جہتوں کا حامل ایک منصفانہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا حل اتفاق رائے اور اعتماد سازی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مہم جوئیاں اور یکطرفہ اقدامات صرف سب کے مشترکہ دشمن کے مفاد میں ہیں۔









