حکومتِ پاکستان نے وفاقی دارالحکومت کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی طویل عرصے سے جاری کمی کو دور کرنے کے لئے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے خالی تدریسی آسامیوں کو ازسرنو منظم کر دیا ہے۔
حکومتِ کا وفاقی دارالحکومت کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لئے اہم اقدام ، خالی تدریسی آسامیاں ازسرنو منظم

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):حکومتِ پاکستان نے وفاقی دارالحکومت کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی طویل عرصے سے جاری کمی کو دور کرنے کے لئے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے خالی تدریسی آسامیوں کو ازسرنو منظم کر دیا ہے۔ وزارتِ تعلیم کے مطابق سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کی ہدایات پر یہ فیصلہ کیا گیا جس کے تحت ایسی آسامیوں کو ان تعلیمی اداروں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں اساتذہ کی شدید کمی کے باعث تدریسی عمل متاثر ہو رہا تھا۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں میں دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق اساتذہ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ بعض سکولوں میں کم داخلوں کے باعث غیر مؤثر ہو جانے والی آسامیوں کو اب ان علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں فوری بنیادوں پر اساتذہ کی ضرورت تھی۔ اس فیصلے سے اسلام آباد کے دیہی علاقوں بشمول ترنول، بہارہ کہو، نیلور اور سہالہ کے تعلیمی اداروں کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جبکہ شہری علاقوں کے ایسے سکول بھی مستفید ہوں گے جہاں اساتذہ کی کمی سنگین صورت اختیار کر چکی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 631 تدریسی آسامیوں کو ازسرنو تقسیم کیا گیا ہے جن میں 148 سیکنڈری سکول ٹیچر (ایس ایس ٹی)، 348 سینئر ایلیمنٹری ٹیچر (ایس ای ٹی) اور 135 ایلیمنٹری اسکول ٹیچر (ای ایس ٹی) کی آسامیاں شامل ہیں۔ ان میں سے 523 آسامیاں شہری علاقوں سے دیہی تعلیمی اداروں کو منتقل کی گئی ہیں۔ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لئے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی جس میں متعلقہ افسران شامل تھے۔ کمیٹی نے تفصیلی جائزہ کے بعد اس بات کو یقینی بنایا کہ آسامیوں کی منتقلی زمینی حقائق اور ادارہ جاتی ضروریات کے مطابق ہو۔ تعلیمی اداروں کے سربراہان، والدین اور عوامی حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے تدریسی عمل میں بہتری آئے گی اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر ہوں گی۔








