حکومتی ملازمین اور ذمہ دار عہدیداران کے لیے سرکاری ہسپتالوں سے علاج لازمی قرار دینے سے چند ہفتوں میں ان ہسپتالوں کی حالت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے، سینیٹر پرویز رشید
حکومتی ملازمین اور ذمہ دار عہدیداران کے لیے سرکاری ہسپتالوں سے علاج لازمی قرار دینے سے چند ہفتوں میں ان ہسپتالوں کی حالت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے، سینیٹر پرویز رشید

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):سینیٹر پرویز رشید نے پمز میں پیش آنے والے المناک واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے سانحات صرف انکوائری اور ذمہ داروں کو سزا دینے سے ختم نہیں ہوں گے، مسئلے کے مستقل حل کے لیے بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ یہ انتہائی المناک واقعہ ہے، تاہم گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک میں ایسے سانحات مسلسل پیش آتے رہے ہیں، جن پر افسوس، مذمت اور آنسو بہانے کے بعد ایک نئے سانحے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پمز واقعہ کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کو سزا بھی ملنی چاہیے، تاہم صرف انکوائری اور سزا سے ایسے سانحات کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ سینیٹر پرویز رشید نے تجویز دی کہ قانون بنایا جائے کہ حکومت پاکستان سے تنخواہ اور مراعات حاصل کرنے والے تمام افراد، خواہ وہ گریڈ 22 کے افسران ہوں، سینیٹ کے ارکان، وزرا ، وزیراعظم یا اعلیٰ عدلیہ کے ججز، صرف سرکاری ہسپتالوں سے اپنا علاج کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی ملازمین اور ذمہ دار عہدیداران کے لیے سرکاری ہسپتالوں سے علاج لازمی قرار دے دیا جائے تو چند ہفتوں میں ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتال اس لیے بہتر نہیں ہو پاتے کہ فیصلہ سازوں کو نجی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت حاصل ہوتی ہے، جس کے باعث انہیں سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال کا براہ راست سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ سرکاری ملازمین کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال اور سرکاری سکولوں میں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جائے، اس سے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر ہوگا۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ملک میں اصلاحات کے لیے ایسی قانون سازی ضروری ہے جس کے نتیجے میں حکمران طبقہ اور سرکاری افسران بھی انہی سرکاری سہولیات سے استفادہ کریں جو عام شہریوں کو دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے عسکری ہسپتالوں کا نظام ایک مثال ہے جہاں سپاہی سے لے کر جنرل تک اپنا علاج انہی ہسپتالوں میں کراتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عسکری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو نجی پریکٹس کی اجازت نہ ہونے کے باعث وہاں کا نظام بہتر انداز میں چلتا ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے چیئرمین سینیٹ پر زور دیا کہ ان کی پیش کردہ تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور سرکاری ہسپتالوں سمیت دیگر عوامی اداروں کی بہتری کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔








