اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت تمام صوبوں میں چار معاشی زون قائم کرنے کے لئے پرعزم ہے، خصوصی زون میں مینوفیکچرنگ میں مشترکہ منصوبے قائم کئے جائیں گے، پاکستانی مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کے لئے یہ ضروری ہے کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کرکے عالمی ویلیوکا حصہ بنیں۔ ان خیالات …
حکومت تمام صوبوں میں چار معاشی زون قائم کرنے کے لئے پرعزم ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمرکی راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت تمام صوبوں میں چار معاشی زون قائم کرنے کے لئے پرعزم ہے، خصوصی زون میں مینوفیکچرنگ میں مشترکہ منصوبے قائم کئے جائیں گے، پاکستانی مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کے لئے یہ ضروری ہے کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کرکے عالمی ویلیوکا حصہ بنیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد نے معاشی زون میں ان کے کردار اور چینی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے مابین کاروباری تعلقات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ وفاقی وزیر نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک بزنس فورم حکومت اور کاروباری برادری کے مابین ایک انٹرفیس پیدا کرنے اور پاکستان اور چین کے مابین صنعتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی نمائندگی سے میگا پروجیکٹ کی چھتری تلے صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فوکس ترجیحی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعہ پاکستان کی صنعتی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔انہوں نے کہاکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے پہلے مرحلے میں، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کو یا تو مکمل کیا گیا ہے یا قریب قریب تکمیل ہے۔ دوسرا مرحلہ زراعت اور دیگر شعبے ہیں۔ سی پیک کے تحت، ایم ایل ون پروجیکٹ ، جو تقریبا 9 بلین ڈالر کاہے، موجودہ مالی سال میں شروع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ عوامی نجی شراکت کے تحت سی پیک پروجیکٹس میں حصہ لے سکتا ہے۔ صوبوں کو ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیر نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے وفد سے کہا کہ وہ مارچ 2020 تک صنعتی اور برآمدات کے شعبے کی حکمت عملی کے لئے 3 سال کا روڈ میپ تیار کریں۔








