اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت سندھ تمام شعبوں میں بہتری کےلئے بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے، صحت کے شعبہ میں بہتری پر خصوصی توجہ مرکوز ہے، پورے سندھ میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کےلئے اقدامات کئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں سندھ حکومت کی کارکردگی اور …
حکومت سندھ ہر شعبہ میں بہتری کیلئے بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے، صحت کے شعبہ میں بہتری پر خصوصی توجہ مرکوز ہے بلاول بھٹو زرداری

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت سندھ تمام شعبوں میں بہتری کےلئے بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے، صحت کے شعبہ میں بہتری پر خصوصی توجہ مرکوز ہے، پورے سندھ میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کےلئے اقدامات کئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں سندھ حکومت کی کارکردگی اور آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے صحت، تعلیم، غربت کے خاتمے، انفراسٹرکچر، صنعت، زراعت اور آمدن میں اضافے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ملک کے مالی مسائل کے حل کےلئے سیلز ٹیکس کی وصولی کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
تقریب میں قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے گورنرز، وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن اور سابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے علاوہ سندھ کابینہ کے ارکان، اراکین پارلیمنٹ، پاکستان میں متعین غیر ملکی سفارتکاروں، اقوام متحدہ کے اداروں کے نمائندوں، پاکستان بھر سے چیمبر آف کامرس اینڈسٹری کے عہدیداران اور صحافیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت سندھ نے ہر دور میں درپیش چیلنجز سے بہترین حکمت عملی سے نمٹی ہے، سندھ میں عالمی معیار کی صحت کی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی حکومت نے بتدریج اداروں کو مضبوط کیا اور عوام کو سہولیات کی فراہمی میں وسعت پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ہر آنے والے صوبائی انتخاب میں پارٹی کو پہلے سے زیادہ عوامی مینڈیٹ ملا ہے۔ صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ میں صحت کے لئے بجٹ کا حصہ 2008ء میں 2.9 فیصد سے بڑھ کر اب تقریباً 10 فیصد ہوچکا ہے۔
انہوں نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کی توسیع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بستروں کی تعداد 1100 سے بڑھ کر 2025ء تک 2200 ہوچکی ہے اور 2028ء تک اسے 3100 تک لے جانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) صوبے بھر میں 11 خصوصی ہسپتال اور 30 چیسٹ پین یونٹس چلا رہا ہے جس سے دل کے مریضوں کو ہنگامی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے جے پی ایم سی کراچی کو عالمی معیار کا ہسپتال بنایا جبکہ این آئی سی وی ڈی میں دل کے امراض کا مفت علاج کیا جارہا ہے، صوبہ میں این آئی سی وی ڈی طرز کے 11 ہسپتالوں میں ایک سال میں 29 لاکھ مریض علاج کرچکے ہیں۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے بستروں کی تعداد 760 سے بڑھ کر 1926 ہوگئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں کینسر کا مہنگا ترین علاج مفت کیا جارہا ہے، صوبہ میں پہلی بار کینسر کے علاج کےلئے سائبر نائف ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔
انہوں نے کہاکہ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں اب تک 1362 کامیاب لیور ٹرانسپلانٹس کئے جاچکے ہیں جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما (ایس ایم بی بی آئی ٹی) جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ٹراما سینٹر بن چکا ہے جہاں سالانہ ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ٹراما مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بچوں کی اموات کی شرح 2.9 فیصد ہے جو قومی اوسط 5.45 فیصد سے کہیں کم ہے۔
تعلیم کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں سرکاری جامعات کی تعداد 2008ء میں 10 تھی جو اب بڑھ کر 30 ہوچکی ہے جبکہ صوبے بھر میں 18 نئے یونیورسٹی کیمپس بھی قائم کئے گئے ہیں۔ غربت کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن پروگرام کے ذریعے آسان قرضوں کی بدولت 14 لاکھ خواتین کو غربت سے نکالنے میں مدد ملی جس کی ریکوری کی شرح 98 فیصد ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 21 لاکھ گھر تباہ ہوئے جس کے بعد سندھ حکومت نے21 لاکھ ماحول دوست مضبوط گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا، اب تک 7 لاکھ 50 ہزار گھر مکمل ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے تقریباً 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد سندھ حکومت نے 2.1 ارب روپے مالیت کے گندم کے بیج 2 لاکھ 15 ہزار کسانوں میں تقسیم کیے جس کے نتیجے میں اگلے سیزن میں 45 لاکھ ٹن کی ریکارڈ گندم پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر ہاری کارڈ پروگرام سے 1 لاکھ 98 ہزار کسان مستفید ہوئے جبکہ 56 ارب روپے کے گندم سپورٹ پیکج کے ذریعے تقریباً 19.6 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام رکھتا ہے جس میں 4 ہزار کلومیٹر سے زائد نہریں شامل ہیں۔
آمد و رفت اور رسائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ میں سڑکوں کا نیٹ ورک تقریباً 57 ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے جن میں سے 24148 کلومیٹر نئی سڑکیں ہیں یا پھر انہیں بہتر بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء سے پہلے دریائے سندھ پر صرف پانچ پل تھے جبکہ اس کے بعد مزید چار پل تعمیر کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء سے قبل صوبے میں عوامی ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی مگر اب پی پی پی حکومت کے منصوبوں کے تحت روزانہ دو لاکھ سے زائد افراد سفری سہولت سے مستفید ہورہے ہیں جن میں الیکٹرک بسیں بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر مزدور کارڈ پروگرام کے تحت 2 لاکھ 2 ہزار مزدوروں کو رجسٹر کیا جاچکا ہے۔ توانائی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں 50 ہزار میگاواٹ تک ونڈ انرجی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ شمسی توانائی کے بھی وسیع امکانات ہیں، اس وقت 1845 میگاواٹ بجلی ونڈ منصوبوں سے حاصل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 لاکھ گھروں کو سولر ہوم سسٹم فراہم کئے جاچکے ہیں اور مزید 2 لاکھ 75 ہزار گھروں کو سولرائز کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسپیشل اکنامک زونز اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سندھ حکومت کی نمایاں پہچان ہیں۔
دھابیجی سپیشل اکنامک زون کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے، تھر کول منصوبے ایک کامیاب ماڈل قرار دیا گیا جس سے قومی بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور مقامی لوگوں کو روزگار ملا جہاں 71 فیصد ملازمتیں تھر کے رہائشیوں کو دی گئیں۔ ماحولیاتی بہتری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں مینگرووز کے جنگلات کا رقبہ 2 لاکھ 70 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر ریکارڈ 6 لاکھ 75 ہزار ایکڑ ہوگیا ہے۔ آمدن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) نے 2011 میں 28 ارب روپے جمع کئے تھے۔ 2024 تک ایس آر بی نے سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 307 ارب روپے جمع کئے۔
انہوں نے کہا کہ ایس آر بی کی اوسط سالانہ شرحِ نمو 19 فیصد ہے جو ایف بی آر کی 10 فیصد شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ مالی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اشیاءپر سیلز ٹیکس کی وصولی صوبوں کو منتقل کی جائے کیونکہ صوبائی ریونیو ادارے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اس سے وفاقی مالی خسارہ کم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبوں کی معاشی خودمختاری مضبوط ہوگی۔
قبل ازیں اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی 2008ءسے سندھ میں برسر اقتدار ہے جو صوبہ کے عوام کا پارٹی پر اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے بارہا پیپلز پارٹی کو منتخب کر کے اس پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا جو عوامی خدمت کےلئے پارٹی کی طویل جدوجہد کی توثیق ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکمرانی کا فلسفہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن سے ماخوذ ہے جس کا مقصد معاشرے کے محروم ترین طبقات کو بااختیار بنانا اور جامع ترقی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے اور صوبائی حکومت صحت، تعلیم، توانائی، ہائوسنگ اور دیگر شعبوں کی ترقی کےلئے بھرپور اقدامات کررہی ہے۔








