اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت سڑک حادثات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے بتایا کہ حکومت سڑک حادثات پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے مطابق اقدامات کر رہی ہے، جن میں …
حکومت سڑک حادثات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کر رہی ہے، طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت سڑک حادثات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے بتایا کہ حکومت سڑک حادثات پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے مطابق اقدامات کر رہی ہے، جن میں سنگین خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر کا اندراج اور ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی شامل ہے۔
انہوں نے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی جانب سے سندھ میں قومی شاہراہوں پر حفاظتی اقدامات کے فقدان کے باعث ہونے والے مہلک حادثات سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی حفاظت کے اقدامات پورے ملک میں بلا امتیاز نافذ کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں کسی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔وزیر نے قومی شاہراہوں پر حفاظتی اقدامات کے نفاذ میں تضاد کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حادثات کی روک تھام سے متعلق پالیسیاں پورے پاکستان میں یکساں ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں ٹریفک حادثات سے ہونے والی اموات کی شرح کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔سندھ سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں 936 کلومیٹر طویل قومی شاہراہوں کا نیٹ ورک موجود ہے، جس میں ایم-9، این-5 اور این-55 جیسے اہم روٹس شامل ہیں۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ اہم شاہراہوں پر چوبیس گھنٹے گشت کیا جا رہا ہے جبکہ رش کے اوقات میں اضافی نگرانی بھی یقینی بنائی جاتی ہے تاکہ خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سمیت تمام صوبوں میں روڈ سیفٹی مہمات، سیمینارز اور تعلیمی پروگرامز کے ذریعے آگاہی اقدامات جاری ہیں۔حالیہ پالیسی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ حکومت نے سخت نفاذی نظام متعارف کرایا ہے جس کا مقصد خلاف ورزیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیز رفتاری پر جرمانوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث گاڑیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں ضبط بھی کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ لاپرواہ ڈرائیونگ کی روک تھام کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی کا اقدام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا فریم ورک عادی خلاف ورزی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے کیونکہ صرف مالی جرمانے اکثر مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔








