حکومت عوام کو فوری ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں پر اضافی بوجھ سے بھی بچانے کی کوشش کر رہی ہے، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی میڈیا سے گفتگو

حکومت عوام کو فوری ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں پر اضافی بوجھ سے بھی بچانے کی کوشش کر رہی ہے، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو فوری ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں پر اضافی بوجھ سے بھی بچانے کی کوشش کر رہی ہے، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے، علاقائی اور عالمی توانائی بحران کے باعث گیس اور آر ایل این جی کی سپلائی کو درپیش مشکلات نے بجلی کی پیداوار اور طلب پوری کرنے کے لیے چیلنجز پیدا کیے ہیں تاہم حکومت عوام کو ریلیف دینے، بجلی کی فراہمی بہتر بنانے اور توانائی کی اضافی لاگت کا بوجھ صارفین پر کم سے کم منتقل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، مقامی گیس کی دستیابی بڑھانے، اضافی آرایل این جی کے انتظام اور توانائی شعبے کے اداروں کے باہمی تعاون سے موجودہ صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ گیس کی سپلائی میں کمی کے باعث رات کے اوقات میں بجلی کی طلب پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہےتاہم حکومت صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تقریباً 5 ہزار میگاواٹ بجلی گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس پیدا کرتے ہیں جو بالخصوص رات کے اوقات میں بجلی کی طلب پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ رات کے وقت بجلی کی طلب بڑھ کر 20 سے 25 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہےجس کے باعث گیس سے چلنے والے پلانٹس کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال اپریل میں لوڈشیڈنگ تقریباً ختم ہو چکی تھی تاہم اس وقت دو بنیادی وجوہات کی بناء پر بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے، ایک طرف گیس کی دستیابی میں کمی آئی جبکہ دوسری جانب پن بجلی کی پیداوار بھی زرعی شعبے کی پانی کی ضروریات سے منسلک ہے۔

سردار اویس احمد خان لغاری نے واضح کیا کہ اس وقت دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی میں حکومت کی جانب سے کوئی کمی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دن کے وقت سپلائی میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے اوقات میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث گیس سے چلنے والے پلانٹس کے بغیر طلب پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں عارضی لوڈشیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ بین الاقوامی سطح پر گیس کی سپلائی اورآر ایل این جی کے مسائل ہیں،حکومت سپاٹ مارکیٹ سے بھی گیس خرید سکتی ہے تاہم اس صورت میں موجودہ مہینے کے دوران بجلی کی قیمت پر تقریباً پانچ یا چھ روپے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو فوری ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں پر اضافی بوجھ سے بھی بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی بجلی کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، جہاں بجلی چوری نہیں ہو رہی وہاں غیر ضروری لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی جبکہ بجلی چوری والےعلاقوں میں طے شدہ شیڈول کے مطابق لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے

وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ موسم شدید گرمی اور حبس کا ہے اور حکومت عوام کی تکلیف کو محسوس کرتی ہے تاہم بعض عوامل حکومت کے براہ راست کنٹرول سے باہر ہیں۔انہوں نےوزیراعظم، وزارت پٹرولیم اور حکومت کی جانب سے عوام کو یقین دلایا کہ گیس کا موجودہ مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مقامی گیس کو زیادہ سے زیادہ مقدار میں بجلی کی پیداوار کے لیے دستیاب کرایا جائے اور امید ہے کہ چند روز میں اس سلسلے میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔سردار اویس احمد خان لغاری نے بتایا کہ گزشتہ تین راتوں کے دوران بعض علاقوں میں تین، تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑی تاہم گزشتہ رات لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹے تک محدود رہا کیونکہ بجلی کی طلب میں کمی آئی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران موسمی حالات کے باعث بجلی کی طلب میں مزید کمی آئے گی اورحکومت گیس کی اضافی دستیابی کا بھی انتظام کر لے گی۔

وفاقی وزیر نے وزارت پٹرولیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جہاں آر ایل این جی کی ضرورت کم ہوئی، وہاں سے مقامی گیس کو بجلی کے شعبے کی طرف موڑ کر تعاون کیا گیا جس سے بجلی کی قیمت پر گیس کی مہنگائی کے اثرات کو کم رکھنے میں مدد ملی۔انہوں نے عوام کے صبر اوربرداشت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کی مشکلات کا احساس رکھتی ہے اور موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے گی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران خطے کی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے شدید چیلنجز سامنے آئے تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی بحران کے دوران توانائی کی عالمی منڈیوں میں دستیابی کے مسائل پیدا ہوئےکیونکہ متعدد ممالک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیےدرآمدات اور مختلف ذرائع پر انحصار کرتے ہیں، سپلائی میں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں حکومتوں، عوام اور کاروباری شعبے کے بجٹ کو متاثر کیا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے تقریباً 130 ارب روپے اپنے وسائل سےاستعمال کیے تاکہ عوام کو موجودہ مشکل صورتحال میں سہارا فراہم کیا جا سکے، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کمزور طبقات کو بھی سپورٹ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی بنیادی کوشش خطے میں مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے قیام کی ہے، کیونکہ اسی صورت میں موجودہ بحران کا مستقل حل ممکن ہے۔وفاقی وزیر نے قطر کی جانب سے پاکستان کو آر ایل این جی کی فراہمی میں تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر کی جانب سے عالمی سطح پر اپنی سپلائیز معطل کیے جانے کے باوجود پاکستان کی درخواست پر چھ سے سات آر ایل این جی کارگوز نسبتاً کم لاگت پر فراہم کیے گئے۔انہوں نے ایران کی جانب سے بھی پاکستان کی توانائی ضروریات کے حوالے سے سہولت کاری پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دیگر دوست ممالک نے بھی پاکستان کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے تعاون کیا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ گرمیوں کے موسم میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہواجس کے باعث پاکستان کو سپاٹ مارکیٹ سے آر ایل این جی سمیت دیگر توانائی وسائل خریدنا پڑے، بعض کارگوز معمول کی قیمت سے دو گنا سے بھی زیادہ مہنگے تھے تاہم حکومت نے کوشش کی کہ توانائی کی اضافی لاگت کا زیادہ بوجھ صارفین کے ٹیرف پر منتقل نہ ہو۔انہوں نےبتایا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ڈالر کے استعمال اور کرنٹ اکائونٹ کے دبائو کو بھی مدنظر رکھنا پڑا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے حکومت نے زرمبادلہ کو کم رکھنے کی کوشش کی جبکہ مقامی گیس کمپنیوں نے بھی پاور ڈویژن کو گیس کی فراہمی جاری رکھی،مقامی گیس کی دستیابی سے بجلی پیدا کرنے اور کھاد کے شعبے کو مناسب لاگت پر چلانے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ کھاد کے شعبے کو بھی پوری صلاحیت کے ساتھ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر کھاد کے بحران کےباوجود پاکستان میں اس کی قیمتوں میں غیرضروری اضافہ نہ ہو۔علی پرویز ملک نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن موجودہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیےپاورڈویژن کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا، اگر ہنگامی بنیادوں پر آرایل این جی کی اضافی سورسنگ یا کسی دیگر پٹرولیم سپورٹ کی ضرورت پڑی تو عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم ڈویژن اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

 

مزید خبریں