حکومت قومی توانائی سلامتی کے تحفظ اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے کیلئے مکمل طور پر پُرعزم ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا وزیراعظم کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پیشگی منصوبہ بندی اور مختلف وزارتوں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے نتیجہ میں پاکستان میں توانائی کی رسد کی صورتحال مستحکم اور مؤثر انداز میں منظم ہے، حکومت مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے، قومی توانائی سلامتی کے تحفظ اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لئے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

اسلام آباد۔9مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پیشگی منصوبہ بندی اور مختلف وزارتوں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے نتیجہ میں پاکستان میں توانائی کی رسد کی صورتحال مستحکم اور مؤثر انداز میں منظم ہے، حکومت مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے، قومی توانائی سلامتی کے تحفظ اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لئے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں خطہ میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔کمیٹی نے توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لینے کا سلسلہ پیرکوبھی جاری رکھا اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر قومی سطح پر تیاریوں کا بھی جائزہ لیا۔

اجلاس میں علاقائی اور عالمی توانائی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی پوزیشن کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں خام تیل اور ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قومی ذخائر(انوینٹری)، جاری درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کی لاجسٹکس پر مفصل بریفنگ دی گئی جس میں اس وقت راستے میں موجود جہازوں اور قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ترتیب دی جانے والی اضافی کھیپوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ کمیٹی نے اس امرپر اطمینان کا اظہار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں اور سپلائی چین مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے جبکہ آئندہ ہفتوں میں فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے متعدد کھیپوں اور درآمدی انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ کمیٹی کے ارکان کو عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ رجحانات سے بھی آگاہ کیا گیا جن میں خطے میں جغرافیائی و سیاسی پیشرفت کے باعث گزشتہ دنوں نمایاں اتار چڑھاؤ کی صورتحال شامل تھی۔ کمیٹی نے بین الاقوامی مارکیٹ کے اشاریوں بشمول بنچ مارک خام تیل کی قیمتوں کی نقل و حرکت اور ریفائن شدہ مصنوعات کی قیمتوں کے رجحانات کا جائزہ لیا اور عالمی توانائی منڈی کے ممکنہ منظرناموں کا بھی تجزیہ کیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت عالمی سطح پر قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملکی توانائی سلامتی اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لئے مسلسل منصوبہ بندی کر رہی ہے۔اجلاس میں خام تیل کی درآمد، ریفائنری آپریشنز اور بحری نقل و حمل سے متعلق لاجسٹک اور آپریشنل انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ رابطہ کاری اور شپنگ کے انتظامات شامل ہیں۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کارگو کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے اور ریفائنریز و سپلائی انفراسٹرکچر کی بلا تعطل فعالیت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت کو بہترین سطح پر برقرار رکھا جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی قائم رکھی جائے تاکہ قومی سطح پر ایندھن کی دستیابی برقرار رہے۔ سپلائی سے متعلق اقدامات کے ساتھ ساتھ کمیٹی کو توانائی کے تحفظ اور طلب کے انتظام کے لئے متعدد ہدفی تجاویز بھی پیش کی گئیں جن کا مقصد عالمی سطح پر عدم استحکام کے ادوار میں ایندھن کی درآمدات پر دباؤ کم کرنا ہے۔

مؤثر ایندھن استعمال، آپریشنل ایڈجسٹمنٹس اور سرکاری شعبے میں توانائی بچت سے متعلق مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ذمہ دارانہ استعمال اور ہدفی توانائی بچت کے ذریعے ایندھن کی درآمدات میں نمایاں بچت ممکن ہے جس سے قومی معاشی استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔ کمیٹی نے ہوا بازی اور لاجسٹکس کے شعبوں کے شراکت داروں کی جانب سے اٹھائے گئے بعض آپریشنل مسائل کا بھی نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کی جائے۔کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ کاری کے نظام کا بھی جائزہ لیا تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور فراہمی میں کسی ممکنہ تعطل سے بچا جا سکے۔

صوبوں نے کمیٹی کو پٹرول پمپس پر جاری نفاذی اقدامات اور معائنوں کے بارے میں بریفنگ دی جبکہ وفاقی حکام نے شرکاء کو ایک مربوط مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کی تیاری کے بارے میں آگاہ کیا جس کے ذریعے ملک بھر میں ذخائر کی سطح اور ریٹیل سپلائی کی صورتحال کی حقیقی وقت میں نگرانی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی توانائی منڈیاں اس وقت شدید اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہی ہیں تاہم پاکستان کی سپلائی کی صورتحال مستحکم اور مؤثر انداز میں منظم ہے جس کی وجہ پیشگی منصوبہ بندی اور مختلف وزارتوں کے درمیان قریبی رابطہ کاری ہے۔

وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ کمیٹی عالمی توانائی منڈیوں میں ہونے والی پیشرفت، ملکی ذخائر کی صورتحال اور سپلائی چین کی حرکیات کا روزانہ کی بنیاد پر قریبی جائزہ لیتی رہے گی تاکہ بروقت اور مربوط پالیسی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے، قومی توانائی سلامتی کے تحفظ اور اس بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق راناتنویرحسین، وزیرِ تجارت جام کمال خان وفاقی وزیر بحری امورمحمدجنیدانوارچوہدری اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہرکیانی کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکرٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔