اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک کو مضبوط معاشی استحکام فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی ترقی اور ان کے حالات زندگی بدلنے کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے ، وزیراعظم عمران خان کی سوچ اس حوالے سے واضح ہے ، سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل سے لے کر لائیو سٹاک کے ذریعے عام لوگوں کی معاشی حالت بہتر بنانے …
حکومت معاشی استحکام اور عوام کی خوشحالی کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے، رکن قومی اسمبلی کنول شو ذب کی اے پی پی ویب ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک کو مضبوط معاشی استحکام فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی ترقی اور ان کے حالات زندگی بدلنے کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے ، وزیراعظم عمران خان کی سوچ اس حوالے سے واضح ہے ، سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل سے لے کر لائیو سٹاک کے ذریعے عام لوگوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے وہ یکسو ہیںہمارے سیاسی مخالفین خود پولٹری فارمنگ ،لائیو سٹاک فارمنگ کے ذریعے اربوں روپے کما رہے ہیں لیکن جب عمران خان نے ”احساس “ پولٹری اور لائیو سٹاک کے ذریعے عام لوگوں کی زندگی میں معاشی استحکام لانے کی کوشش کی تو مخالفین نے تنقید کرنا شروع کردی ”اے پی پی ویب ٹی وی “ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی و ٹیکنالوجی و اصلاحات کنول شو ذب نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں میں فیز I تقریباً مکمل ہو چکا ہے یا اس کے منصوبے مکمل ہونے کے قریب ہیں جب کہ فیز ٹو پر کام جاری ہے ، ہم نے سی پیک کو محض چین اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت تک محدود کرنے کی بجائے دیگر تقریباً پانچ سو شعبوں تک بڑھا دیا ہے ،جس کے نتائج پوری قوم اگلے پانچ برسوں میں دیکھے گی ،تعلیم سے لے کر توانائی کے حصول تک ہر شعبہ ہماری ترجیح ہے اور اس پر وسیع پیمانے سے سرمایہ کاری کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنا والا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن بدقسمتی سے ہم دودھ سے بننے والا پنیر بیرون ملک سے درآمد کرتے ہیں ہماری برآمدات میں لائیو سٹاک کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ پاکستان جو کہ زرعی ملک ہے اس کی زراعت میں لائیو سٹاک کا حصہ 56 فیصد ہے ممبر قومی اسمبلی وپارلیمانی سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی و ٹیکنالوجی و اصلاحات کنول شو ذب نے کہا کہ سی پیک پر2007 میں کام شروع ہوا تھا جو بعد کے ادوار میں بھی جاری رہا یہ ایک شاہراتی منصوبہ تھا جسے تجارت کے لئے استعمال کیا جانا تھا لیکن ہماری حکومت نے اسے محض تجارتی راہداری کی بجائے ترقی اور ملکی معیشت میں استحکام لانے کیلئے استعمال کرنے کیلئے اقدامات کئے جس کے لئے وزیراعظم پاکستان نے گزشتہ برس چین کا دورہ کیا اور پانچ سو سے زائد شعبوں میںوسیع تر تعاون اور سرمایہ کاری پر اتفاق رائے اور معاہدے سائن کئے گئے انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اس وقت اڑھائی کروڑ سے زائد بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرانا بڑا چیلنج ہے نیشنل ایجوکیشن ایجنڈا کے تحت پورے ملک میں پانچویں جماعت تک یکساں نصاب تعلیم پر کام ہورہا ہے ،صوبہ پنجاب میں پرائمری تعلیم کے بعد ثانوی تعلیم کے لئے پہلے سے موجود تعلیمی اداروں میں سیکنڈ شفٹ کا اجراءکیا جارہا ہے سرکاری تعلیمی اداروں میں بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کے علاوہ نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کو مالی امداد فراہم کی جارہی ہے کنول شو ذب نے کہا کہ ہماری آبادی بڑھ رہی ہے زرعی زمین میں مختلف وجوہات پر کمی کے ساتھ ساتھ ہمیں پانی و دیگر مسائل بھی سامنا ہے ،بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے اس لئے زراعت کے میدان میں ترقی کے لئے ہم نے چین سے جدید زرعی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے معاہدے کئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ملک بھر میں نیشنل ٹیکنالوجی زونزبنا رہے ہیں ا س سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں فیصل آباد میں ایک ٹیکنالوجی زون کا افتتاح کیا پاکستان کو ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے لے جانا ہمارا مشن ہے دنیا اس وقت جی 5 اور جی 6 کی طرف بڑھ رہی ہیں پاکستان اس حوالے سے وسیع منڈی ہے ،چین کے علاوہ دیگر کئی ممالک کی کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں اس سے ہماری معیشت کو استحکام ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ”لنگر خانے “ قائم کرکے نادار لوگوں کے کھانے پینے کا بندوبست کیا کیونکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی بھوکے کو کھانا کھلانا سب سے بڑا صدقہ ہے اور گناہوں کا کفارہ بھی ہے لیکن وزیراعظم کی اس سوچ اور فیصلے پر بھی ہمارے سیاسی مخالفین اور چھوٹی ذہنیت کے لوگوں کو حکومت کا یہ پروگرام بھی پسند نہیں جبکہ ہمارے اس ماڈل کو لندن کے میئر نے اپنا لیا ہے جو وزیراعظم عمران خان کی بالغ نظری اور دور اندیشی کا ثبوت ہے اور ہمارے مخالفین کو کھرا جواب ہے اسی طرح وزیراعظم عمران خان نے ملک کے پچاس فیصد سے زائد آبادی جو دیہاتوں میں رہتی ہے ،کو معاشی استحکام فراہم کرنے کیلئے پولٹری اور لائیو سٹاک کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں مرغیاں ،گائے بھینسیں وغیرہ فراہم کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا جس سے انہیں دودھ ،انڈے سے لے کر توانائی تک میسر آرہی ہے دیہی علاقوں میں اب بھی دودھ ،مکھن ، انڈے اور اس طرح کی دیگر اشیاءکو بارٹر سسٹم کے تحت دیگر ضرورتوں کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے عام لوگوں کو گھر کی گندم اور آٹا میسر ہوتا ہے ، اگر دیہی علاقوں میں بارٹر سسٹم کے تحت ان لوگوں کو دیگر اشیاءبھی میسر آجائیں تو ان کا طرز زندگی بہتر ہوسکتا ہے اور اس سے ان کی معیشت بھی بہتر ہوگی جس سے خواتین اور بچوں کی غذائیت کی ضروریات پوری ہونگی اور جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔جس سے ایک خوشحال پاکستان سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں پاکستان کے پاس بہترین وسائل ہیں ونڈ انرجی کا ٹھٹھہ سندھ کے قریب بہت بڑا پلانٹ لگا کر ہم اپنی ضرورت کیلئے توانائی حاصل کرسکتے ہیں اسی طرح سولر انرجی سے بھی مستفید ہوسکتے ہیں موجود ہ حکومت سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کر رہی ہے پارلیمانی سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی و ٹیکنالوجی و اصلاحات نے کہا کہ انسانی خوراک سے لے کر توانائی کے حصول تک تمام اہداف ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔








