حکومت ملک میں زرعی شعبے کو جدید بنانے کیلئے وسیع اصلاحات پر عمل پیرا ہے، دو سال میں زیتون کے تیل کی برآمدات ایک ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں، وفاقی وزیررانا تنویر حسین

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں زرعی شعبے کو جدید بنانے کیلئے وسیع اصلاحات پر عمل پیرا ہے جن میں بیج کی ریگولیشن، تحقیق، کسانوں کے معاونت کے پروگرام اور ویلیو ایڈڈ برآمدات شامل ہیں، حکومت دو سال میں زیتون کے تیل کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتی ہے، عالمی سطح پرحالیہ کشیدگی میں پاکستان …

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں زرعی شعبے کو جدید بنانے کیلئے وسیع اصلاحات پر عمل پیرا ہے جن میں بیج کی ریگولیشن، تحقیق، کسانوں کے معاونت کے پروگرام اور ویلیو ایڈڈ برآمدات شامل ہیں، حکومت دو سال میں زیتون کے تیل کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتی ہے، عالمی سطح پرحالیہ کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کو سراہا گیا ہے، ملکی سطح پر بھی قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے زرعی شعبے کو جدید بنانے کے لیے وسیع اصلاحات پر عمل پیرا ہے جن میں میکانائزیشن، بیج کی ریگولیشن، تحقیق، کسانوں کی معاونت کے پروگرام اور ویلیو ایڈڈ برآمدات شامل ہیں۔ میکانائزیشن، زرعی پیداواریت بڑھانے اور شعبے کو تبدیل کرنے کیلئے بنیادی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدید کاشتکاری کے طریقوں پر توجہ دے رہی ہے تاکہ پیداوار بہتر ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت 2024 میں اقتدار میں آئی تو ملک میں تقریبا 1,100 رجسٹرڈ بیج کمپنیاں تھیں، جن میں سے تقریباً 450 بدانتظامی میں ملوث پائی گئیں۔ ان کے لائسنس منسوخ کر دیئے گئے تاکہ کسانوں کو معیاری تصدیق شدہ بیج دستیاب ہو سکیں۔ نگرانی کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت نے نیشنل سیڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی ہے جو ایک آزاد ادارہ ہے جس کا بورڈ آف گورنر ہے۔ اس کا کام بیج کے شعبے کو ریگولیٹ کرنا اور صرف تصدیق شدہ بیج ہی کسانوں تک پہنچانا ہے، جس سے زرعی پیداوار محفوظ ہو گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت زرعی تحقیق کو بھی ترجیح دے رہی ہے اور پاکستان زرعی تحقیقی کونسل کو تبدیل کرنے پر کام کر رہی ہے، اس سلسلے میں چین کی اکیڈمی آف ایگروکلچرل سائنسز کے ساتھ تعاون شروع کیا گیا ہے۔ ان کے ماہرین پاکستان آئے اور پی اے آر سی کی تشکیل نو پر سفارشات پیش کیں، چینی تکنیکی ماہرین کی اس سلسلے میں خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں، تاکہ اگلے ایک سے دو سالوں میں موسمیاتی حالات کے مطابق بیج کی اقسام تیار کرنے میں مدد ملے۔

موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا کاشتکاری کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے موسم نے فصلوں کی پیداوار پر برے اثرات ڈالے ہیں اور کسان خود ان اثرات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ حکومت موسمی نقصانات کو کم کرنے کیلئے مشاورتی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ "زرخیز سکیم” نامی ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت 25 ایکڑ سے کم زمین والے چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت کے قرضے دیئے جائیں گے، اس سکیم کے تحت کرایہ دار کسان اور بٹائی دار کاشتکار ذاتی ضمانت کے ذریعے فنانسنگ حاصل کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ زرعی قرضے بڑی ایگرو بزنسز اور انڈسٹریز کی بجائے چھوٹے کسانوں تک پہنچیں۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت نے 1,000 زرعی گریجویٹس کو چین بھیجا ہے جہاں انہیں مختلف شعبوں میں تین سے چھ ماہ کے عملی تربیتی پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کے چین دورے کے بعد چین کی اعلیٰ زرعی اداروں کے ساتھ ایک اور بیچ آف 1,000 طلبا کا اعلان کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں تین بڑی پالیسیاں منظور کی ہیں جو کئی دہائیوں سے التوا کا شکار تھیں، جن میں نیشنل سیڈ پالیسی اور بائیوٹیکنالوجی پالیسی شامل ہیں، دونوں تقریبا 40 سال کے وقفے کے بعد متعارف کروائی گئیں۔زیتون کے شعبے کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے اسے بے پناہ صلاحیت والا شعبہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی زیتون کے تیل کے پروڈیوسرز نے معیار پر تین سلور میڈلز جیتے ہیں اور ملک نے مقامی کھپت کے باوجود تقریبا 80 ملین ڈالر کا زیتون کا تیل برآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مناسب معاونت کے ساتھ دو سال میں زیتون کے تیل کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے سپین کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے حکام نے بتایا کہ سپین سالانہ 11 ارب ڈالر زیتون کے تیل کی برآمدات سے کماتا ہے جبکہ پاکستان کا پورا زرعی برآمداتی شعبہ تقریبا اسی کے برابر ہے، جس میں تقریباً 4 ارب ڈالر چاول کی برآمدات شامل ہیں۔

انہوں نے زراعت میں ویلیو ایڈیشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خام مال برآمد کرنے کی بجائے زرعی مصنوعات پر توجہ دے کر برآمداتی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے نئے شروع ہونے والے ضلعی ترقیاتی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ملک کے 10 سب سے زیادہ پسماندہ اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے تحت 5 ایکڑ تک زمین والے کسانوں کو براہ راست مالی معاونت، لائیو سٹاک امداد اور پیداواری مراعات ملیں گی، جن میں فی ایکڑ 15,000 روپے شامل ہیں۔ یہ پروگرام چھوٹے کسانوں کو معیاری ان پٹس تک رسائی، پیداواریت بہتر کرنے اور جدید کاشتکاری کے طریقے اپنانے میں مدد دے گا۔ وفاقی وزیر نے فارمرز پروڈیوسر آرگنائزیشن سکیم کا بھی ذکر کیا جس کے تحت چھوٹے کسانوں کو 100 ایکڑ تک کوآپریٹو بنانے کی ترغیب دی جائے گی۔ رجسٹرڈ گروپس کو مشینری، ہارویسٹرز اور دیگر زرعی آلات کی امداد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تقریبا 95 فیصد کسان چھوٹے زمیندار ہیں جو اکیلے میکانائزیشن، بہتر بیج اور جدید ان پٹس کا خرچ نہیں اٹھا سکتے۔

کوآپریٹو فارمنگ انہیں اکانومی آف اسکیل کا فائدہ دے گی اور پیداواری سطح بلند کرے گی۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ چین اور سعودی عرب کے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کنٹریکٹ فارمنگ اور زرعی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔صوبائی اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے پنجاب کے بلا سود کسان کارڈ پروگرام کی تعریف کی، جس کے تحت تقریبا 8 لاکھ چھوٹے کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔صوبائی حکومت نے سکیم کے لیے اضافی فنڈز مختص کیے ہیں اور ٹریکٹرز، سولر پاورڈ ٹیوب ویلز اور زرعی میکانائزیشن کے لیے شفاف بیلٹنگ کے ذریعے امداد فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب نے سولرائزیشن پروگراموں اور دیگر کسانوں کی معاونت کے لیے بڑی رقم منتقل کی ہے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور زرعی کارکردگی بہتر ہو۔رانا تنویر حسین نے وفاقی بجٹ کو موجودہ معاشی حالات میں پیش کیے گئے بہترین بجٹ میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز سے بڑی پذیرائی ملی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بجٹ کو بزنس کمیونٹی، سول سوسائٹی اور معاشرے کے دیگر طبقات سے مثبت ردعمل ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے وعدوں اور محدود مالی وسائل کے باوجود حکومت نے نئے ٹیکس نہیں لگائے بلکہ برآمد کنندگان اور مختلف صنعتوں کو مراعات دیں۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت نے ٹریلین روپے کے ٹیکس اور ڈیوٹیز کم کیے ہیں اور اس سے ہونے والے ریونیو کے خسارے کو بہتر ٹیکس کمپلائنس اور مضبوط نفاذ کے ذریعے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات پر روشنی ڈالی، خاص طور پر فیس لیس ٹیکس اسیسمنٹ سسٹم جو اکتوبر میں فعال ہونے والا ہے۔نئے طریقہ کار کے تحت ٹیکس ریٹرنز اور ڈیکلریشنز کو سنٹرلائزڈ ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے پروسیس کیا جائے گا، جس سے ٹیکس دہندگان اور افسران کے درمیان براہ راست رابطہ کم ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اسیسمنٹ، ریویو اور فیصلہ سازی کے مختلف مراحل الگ الگ نمٹائے جائیں گے، جس سے شفافیت یقینی ہو گی اور کرپشن کے مواقع کم ہوں گے۔

ٹیکس دہندگان کو معلوم نہیں ہو گا کہ کون سا افسر ان کا کیس ہینڈل کر رہا ہے جبکہ افسران کو بھی انفرادی ٹیکس دہندگان کی محدود معلومات ہوں گی، جس سے عمل زیادہ غیر جانبدار ہو گا۔نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ کوئی بھی نظام جائزہ اور بہتری سے بالاتر نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ترامیم پر کوئی بھی بحث تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول صوبائی حکومتوں کے مشاورت اور اتفاق رائے سے ہونی چاہیے۔انہوں نے علاقائی تنائو، خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے تنازع سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں حکومت کے طرز عمل پر روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے صورتحال کو بغیر ایندھن کی سپلائی اور قانون و انتظام کے کامیابی سے سنبھال لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جبکہ علاقے کے کئی ممالک دبائو کا شکار تھے۔ پڑوسی ممالک کے برعکس پاکستان میں قلت، خریداری یا پٹرول پمپوں پر بڑی رکاوٹ نہیں پیدا ہوئی۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن اعتراف ہے کہ کسانوں کو کافی عرصے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف زراعت کو ترجیحی شعبہ سمجھتے ہیں جو نسبتا کم وقت میں معاشی فوائد دے سکتا ہے۔ حکومت کسانوں کے فائدے اور پیداواریت بڑھانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے زرعی تحقیق اور ترقی میں چین کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ چینی تجربہ فارمنگ ٹیکنیکس بہتر کرنے، تحقیق کی صلاحیت بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد زراعت بنیادی طور پر صوبائی موضوع ہے جس سے وفاقی حکومت کا براہ راست کردار محدود ہے تاہم وفاقی حکومت کوآرڈینیشن، پالیسی گائیڈنس اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے شعبے کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں زرعی مصنوعات پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، علاقائی تنازعات کی وجہ سے عالمی کھاد کی سپلائی چین میں خلل کے باوجود حکومت نے 2024 سے اقتدار سنبھالنے کے بعد یوریا کی مستقل سپلائی برقرار رکھی اور قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا۔

انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک میں کھاد کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں جبکہ پاکستان میں یوریا کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی گئی تاکہ کسانوں پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔حکومت نے فارم مشینری اور آلات (بشمول ہارویسٹرز) پر 60 فیصد سبسڈی متعارف کروائی ہے جبکہ ٹریکٹرز الگ سکیم کے تحت ہیں۔ سبسڈی میکانائزیشن پروگرام میں مختلف زرعی آلات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو روایتی کاشتکاری سے دور ہو کر جدید تکنیکس اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ کارکردگی اور پیداواریت بہتر ہو۔ اس پروگرام کے تحت ہزاروں سپر سیڈرز بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں، جن میں پنجاب میں تقریباً 5 ہزار یونٹس مفت دیئے گئے ہیں۔سندھ میں صوبائی حکومت نے زراعت سے متعلق اقدامات کے لیے تقریبا 52 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ سکیم میں 20-25 ایکڑ تک کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے کھاد کی لاگت مکمل یا نمایاں طور پر کم کی گئی ہے۔خیبر پختونخوا میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے تقریبا 26 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صوبے نے "ہاری کارڈ” انیشی ایٹو بھی شروع کیا ہے جو خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو مالی معاونت اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کرتا ہے، اسی طرح بلوچستان نے سٹوریج سہولیات، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے متعدد زرعی معاونت اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیے ہیں۔

صوبے کی زرعی معاونت کا تعاون چند ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔تمام صوبوں میں لائیو سٹاک کی معاونت کے مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں چھوٹے کسانوں کو لائیو سٹاک سپورٹ، بشمول ڈیری فارمنگ اور آمدنی کے لیے مویشیوں کی تقسیم کی سکیمز بھی شروع کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان وفاقی اور صوبائی اقدامات کا مقصد زرعی پیداوار بڑھانا، میکانائزیشن کو فروغ دینا اور چھوٹے کسانوں کو ٹارگٹڈ سبسڈیز اور کریڈٹ سہولیات کے ذریعے سپورٹ کرنا ہے۔رانا تنویر حسین نے پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے قومی اتحاد اور سیاسی استحکام کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد ملک بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ثالثی کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا اور سیاسی جماعتوں اور قوم نے حالیہ چیلنجز کے دوران جو اتحاد دکھایا وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے عزم اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عسکری قیادت نے مذاکرات کے دوران مسلسل مصروف رہ کر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے برقرار رکھے جس سے سیز فائر اور معاہدہ طے پایا، اس کامیابی نے قیادت کے عزم کو ظاہر کیا۔پچھلے سال بھارت کے ساتھ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان کے جواب نے بھارت کو ثالثی اور سیز فائر کی طرف مجبور کیا اور اس سے پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت بڑھی۔انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے عالمی تاثرات میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اقلیتوں اور مسلمانوں کے خلاف پالیسیوں کی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی امور میں اہم کھلاڑی کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ اسلام آباد سے منسلک سفارتی اقدامات اور ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وزیراعظم شہباز شریف کے مفاہمت کی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے اعلان کو بین الاقوامی میڈیا کوریج کا حوالہ دیا اور برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کی تعریف کا ذکر کیا۔سیاسی اتفاق رائے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے قومی چیلنجز کے دوران دکھائے گئے اتحاد کی روح کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے تعمیری مکالمے کو بہترین راستہ قرار دیتے ہوئے قومی استحکام کے لیے سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کی آمادگی کا اعادہ کیا۔اپوزیشن کے تنقیدی ارکان کے جواب میں انہوں نے حکمران اتحاد کے ارکان کی انتخابی کامیابیوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچائیں اور تمام پارٹیوں سے پاکستان کی ترقی اور معاشی بحالی میں مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔