حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ان ضرورت مند افرادکی مالی معاونت کےلئے مرتب کیا ہے جن کے معاشی حالات کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا بیان

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تحفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ان ضرورت مند افرادکی مالی معاونت کےلئے مرتب کیا گیا ہے جن کے معاشی حالات کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ان متاثرین میں دیہاڑی دار افراد اور مزدور سرفہرست ہیں جو …

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تحفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ان ضرورت مند افرادکی مالی معاونت کےلئے مرتب کیا گیا ہے جن کے معاشی حالات کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ان متاثرین میں دیہاڑی دار افراد اور مزدور سرفہرست ہیں جو کہ حفاظتی اقدامات کے باعث گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور اپنے گھر والوں کیلئے دو وقت کی روٹی بھی نہیں کما پا رہے، نوکریوں کی بندش کی وجہ سے بھی بہت سے افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں، اس صورتحال کے پیش نظر احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کواس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ مستحقین کواحساس کے موجودہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے تحت فوری اور آسان طر یقے سے امدادی رقم منتقل کی جا سکے۔ بدھ کو جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ پروگرام کا کل بجٹ 144 ارب روپے ہے جس کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو12000 روپے فی خاندان فراہم کئے جائیں گے، اس کےلئے احساس ایس ایم ایس مہم شروع کی گئی ہے، مستحق افراد کی نشاندہی کا آغازا یس ایم ا یس مہم کے ذریعے کیا جائے گا، جامع و مو¿ثر رابطہ مہم کے ذریعے شہریوں کو مطلع کیا جائے گا کہ وہ8171 پر ایس ایم ایس بھیج کر پروگرام میں شامل ہونے کیلئے اپنی اہلیت کو جانچ سکیں۔ اہل افراد کو بذریعہ ایس ایم ایس رقم وصول کرنے کی اطلاع کر د ی جائے گی اور جن افراد کے کوائف کی تصدیق قومی سماجی ومعاشی سروے کے اعداد و شمار سے نہ ہو سکے گی ان کو ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنا ہو گا، مستحقین کی اہلیت کا معیار مقرر کیا جائے گا۔ درجہ اول کفالت پروگرام کے 45 لاکھ موجودہ صارفین کو ماہانہ 2000روپے وظیفے کے ساتھ ساتھ اگلے چار ماہ کےلئے1,000 روپے کی اضافی رقم دی جائے گی، اس طرح ان کو چار ماہ کی رقم 12,000 روپے یکمشت ادا کر دی جائے گی۔ درجہ دوئم میں 75 لاکھ د یگر مستحقین کو12,000 روپے یکمشت ادا کئے جائیں گے، اس درجہ بندی کے تحت دو طرح سے ضرورت مند افراد کی نشاندہی کی جائے گی۔ درجہ دوئم (الف) وہ مستحقین جن کی شناخت قومی سماجی و معاشی سروے کی بنیاد پر کی جائے گی، اہلیت کے معیار میں نرمی برتی جائے گی۔ درجہ دوئم (ب) وہ افراد جو اس سروے میں شامل نہیں ہیں اور وہ جو اس سروے کے مطابق اہل نہیں ہیں ان کے کوائف تصد یق کےلئے متعلقہ ضلعوں کو بھجوائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کو یہ سہولت د ی جائے گی کہ وہ اس تصدیقی عمل میں درخواست گزار افراد کے کوائف کا اندراج و یب پورٹل پر کرسکیں۔ اندازاً 40 لاکھ افراد قومی سماجی و خوشحالی سروے کے اعدادو شمار کے ذریعے اور53 لاکھ افراد ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے شامل کئے جائیں گے۔ مستحقین کی نشاندہی کے اس سارے عمل میں نادرا کی مدد سے اعداد و شمار و کوائف کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے اور کوئی غیر مستحق شخص پروگرام سے مستفید نہ ہو سکے، رقم کی ترسیل کا طریقہ کار مور کیا گیا ہے۔ نادرا اور شراکتی بینکوں کے تعاون سے تمام ادائیگیاں بائیو میٹرک تصدیق پر مبنی نظام کے ذریعے کی جائیں گی۔ مستحقین شراکتی بینکوں کے پوائنٹ آف سیل مراکز اور اے ٹی ایم مشینوں سے اپنی رقم وصول کر سکیں گے۔ مستحقین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر صوبائی حکومتیں اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ ادائیگیوں کے انتظامات کھلی جگہوں پر کئے جائیں اور موجودہ ادائیگی مراکز کو کھلا رہنے کی اجازت ہو اور ان مقامات پر کورونا سے بچاﺅ کی ممکنہ تدابیر کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ ایک عوامی رابطہ مہم میں اس بات کو بھرپور طریقے سے واضح کیا جائے گا کہ یہ ایک وقتی امداد ان افراد کیلئے ہے جو کورونا وباءسے بری طرح معاشی طور پر متاثر ہوئے ہیں، اس بات کا بھرپور خیال رکھا جائے گا کہ اس امداد سے حقیقی ضرورتمند ہی مستفید ہوں۔

مزید خبریں