اسلام آباد ۔20دسمبر(اے پی پی) وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت نے ریگولیٹری اداروں کا انتظامی کنٹرول متعلقہ وزارتوں کو دیا ہے‘ ان ریگولیٹری اداروں سے متعلقہ قوانین میں ترمیم کے لئے صوبوں سے مشاورت کی جائے گی اور اسے مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ ایجنڈے پر لایا جائے گا‘ یہ ادارے پہلے بھی کابینہ ڈویژن کے ماتحت تھے جو حکومت کا ہی …
حکومت نے ریگولیٹری اداروں کا انتظامی کنٹرول متعلقہ وزارتوں کو دیا ہے‘ ان ریگولیٹری اداروں سے متعلقہ قوانین میں ترمیم کےلئے صوبوں سے مشاورت کی جائے گی، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف

مزید خبریں
اسلام آباد ۔20دسمبر(اے پی پی) وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت نے ریگولیٹری اداروں کا انتظامی کنٹرول متعلقہ وزارتوں کو دیا ہے‘ ان ریگولیٹری اداروں سے متعلقہ قوانین میں ترمیم کے لئے صوبوں سے مشاورت کی جائے گی اور اسے مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ ایجنڈے پر لایا جائے گا‘ یہ ادارے پہلے بھی کابینہ ڈویژن کے ماتحت تھے جو حکومت کا ہی ایک حصہ ہے‘ اگر حکومت وزارتوں کے ذریعے ان اداروں پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے تو یہ کام وہ کابینہ ڈویژن کے ذریعے بھی کر سکتی تھی۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میںسید نوید قمر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ تمام ریگولیٹری اتھارٹیاں ضم کرنے کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل سے لی جانی چاہیے تھیں تاہم وہاں سے اس کی منظوری نہ لے کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے ذریعے ان کا خاتمہ درست اقدام نہیں ہے‘ یہ ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسحاق ڈار کا رپورٹ پیش کرنا اعلیٰ مثال ہے۔








