اسلام آباد ۔ 16 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں وفاقی بجٹ پیش کیا ہے، نئے مالی سال میں 4.9 ٹریلین روپے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی، وفاقی بجٹ میں تجارتی اورکاروباری سرگرمیوں میں تیزی لانے اور غریب وکمزورطبقات کے ساتھ مدد کی کوشش کی گئی ہے ، جی ڈی پی میں دوفیصد …
حکومت نے مشکل حالات میں وفاقی بجٹ پیش کیا ہے، نئے مالی سال میں 4.9 ٹریلین روپے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی، وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی آئی سی اے پی کے زیراہتمام آن لائن پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں وفاقی بجٹ پیش کیا ہے، نئے مالی سال میں 4.9 ٹریلین روپے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی، وفاقی بجٹ میں تجارتی اورکاروباری سرگرمیوں میں تیزی لانے اور غریب وکمزورطبقات کے ساتھ مدد کی کوشش کی گئی ہے ، جی ڈی پی میں دوفیصد اضافہ کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوششہے تاہم اس کادارومدارنہ صرف اندرونی بلکہ بین الاقوامی حالات پربھی ہے۔منگل کوانسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاونٹنٹس پاکستان (آئی سی اے پی) کے زیراہتمام آن لائن پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کوآغازسے مشکل اقتصادی صورتحال کا سامنا تھا جس کی وجہ سے پاکستان نے آئی ایم ایف سے معاونت حاصل کرنے کافیصلہ کیا،آئی ایم ایف کے پاس تب رابطہ کیا جاتاہے جب اقتصادی مسائل سنجیدہ نوعیت کے ہوں، حکومت نے مشکل اقتصادی فیصلے کئے جس کے اچھے اثرات سامنے آئے، ان اقدامات کی وجہ سے حسابات جاریہ کاخسارہ 20 ارب روپے سے کم ہوکر3 ارب کی سطح پرلایا گیا، ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی حرکیات اورحقائق کے مطابق بنایا گیا،حکومت نے غیرملکی قرضہ کی مد میں 5 ارب روپے کی ادائیگی کی، پہلی مرتبہ پرائمری بیلنس سرپلس ہوگیاہے یعنی آمدنی کے مقابلے میں ہمارے اخراجات کم رہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی کی، حکومت نے کوئی ضمنی گرانٹ جاری نہیں کی، سٹیٹ بنک سے قرضہ نہ لینے کی پالیسی اپنائی گئی، حکومت نے برآمدات میں اضافہ پرتوجہ دی جس کے نتیجہ میں برآمدات، جس میں گزشتہ حکومت کے پانچ سالوں میں صفر فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیا، میں اضافہ کا رحجان دیکھنے میں آیا، حکومت کی کوششوں سے محصولات میں 17 فیصد اضافہ ہوا،پہلی مرتبہ نان ٹیکس محصولات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 114 فیصد اضافہ ہوا، امپورٹ کی حوصلہ شکنی کی وجہ سے حکومت کو درآمدات پرٹیکسوں میں آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑاہے، اگرامپورٹ پرٹیکسوں کوشمارکیا جائے تومحصولات اکھٹا کرنے کی شرح 27 فیصد بنتی ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، موڈیز، بلوم برگ اوردیگر بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں کو سراہا، پاکستان سٹاک ایکسچینج نے دنیاء کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ کااعزازحاصل کیا۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ کورونا وائرس کی عالمگیروباء نے سب کچھ تبدیل کیا، اس سے پاکستان کی معیشت کو 3000 ارب روپے کا نقصان ہواہے، ایف بی آر کو ٹیکس محصولات میں کمی کا سامنا کرناپڑا، ایف بی آر کو ہدف 4500 ارب کے مقابلے میں 3900 ارب روپے کے محصولات اکھٹا ہونے کا امکان ہے ، وباء نے پاکستان میں برآمدات، ترسیلات زر، تجارت اوربڑی صنعتوں کے پیداوار پراثرات مرتب کئے۔ انہوں نے کہاکہ وباء کے اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے 1240 ارب روپے کے جامع پیکج کا اعلان کیا، حکومت نے ایک کروڑ 60 لاکھ خاندانوں کو نقدامدادکی فراہمی کا منصوبہ بنایا ،اب تک ایک کروڑ خاندانوں کو نقدامدادفراہم کی جاچکی ہے اورباقی خاندانوں کو نقدامداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، نقد امداد کے پروگرام سے پاکستان کے 10 کروڑ شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ کاروبار اورتجارت کیلئے ریلیف اقدامات کامقصد روزگاربچانا اورروزگارکے مواقع کی فراہمی ہے، سٹیٹ بنک نے اس ضمن میں کئی سکیمیں متعارف کرائی ہیں، چھوٹے کاروبارکیلئے حکومت نے تین ماہ کی بجلی کی ادائیگیاں کی ہیں، زراعت اوریوٹیلیٹی سٹورز کیلئے بالترتیب 50,50 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے، گندم کی خریداری کیلئے 282 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن سے زراعت کے شعبے کو فائدہ پہنچے گا ۔ انہوں نے کہاکہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ مشکل حالات میں پیش کیا گیاہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاگیا کیونکہ ہماری معیشت سکڑائو کا شکارہے اورہم ٹیکس گزاروں پراضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔ بجٹ میں کورونا وائرس کی وباء سے متاثرہ شہریوں اورکاروبارکو تحفظ اورریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ معیشت کے پہیہ کو آگے بڑھایا جاسکے۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ نئے مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4.9 ٹریلین روپے مقررکیا گیاہے اورہماری کوشش ہے کہ اس ہدف کو حاصل کیا جائے تاہم اس کا انحصاروبا کی صورتحال پر ہے اگر وباکی شدت میں کمی آتی ہے تو ہمیں امید ہیں کہ یہ ہدف حاصل کرلیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے بجٹ میں کاروبار کے فروغ کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں جس سے کاروباری لاگت میں کمی آئیگی، ، 1623 ٹیرف لائنزپر ڈیوٹی کی شرح ختم کردی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ 20 ہزارکے قریب خام مال کی اشیاء پرڈیوٹی ختم ہوگئی ہے،200 ٹیرف لائنزپرکسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ کردیا گیا، 166 اشیاء پرریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی گئی، مجموعی طورپر25 فیصدان پٹ اشیاء پر درآمدی ٹیکسوں، ڈیوٹیوں کو ختم یا کم کردیا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے 10 اقسام کے ودہولڈنگ ٹیکسوں کو ختم کیا، درآمدات پرٹیکسوں میں کمی لائی گئی، تعمرات کے شعبہ کیلئے جامع مراعاتی پیکج کا اعلان کیاگیاہے، سیمنٹ پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی لائی گئی ہے، پوائنٹ آف سیلزنظام کے تحت رجسٹرڈ کاروباری اداروں کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح میں مزید کمی لائی گئی ہے، خریداری کیلئے شناختی کارڈ کی شرط اب ایک لاکھ روپے تک خریداری پرعائد ہوگی، حکومت نے میزبانی کی صنعت کیلئے بھی مراعات دی ہیں۔ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ حکومت کے اخراجات میں کمی لائی گئی ہے، دفاع کے بجٹ میں افراط زرکے تناسب سے اضافہ ہواہے اسلئے یہ کہاجاسکتاہے کہ حقیقی معنوں میں دفاع کے بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے فنڈز کو650 ارب روپے تک بڑھا دیا گیاہے اس سے ملک میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع ہوگی اورلوگوں کوروزگارکے مواقع ملیں گے۔ بجٹ میں معاشرے کے غریب اورکمزورطبقات کیلئے احساس پروگرام کے فنڈز 207 ارب روپے تک بڑھا دیے گئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ تجارتی اورکاروباری سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اورغریب وکمزورطبقات کے ساتھ مدد کی جائے۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ حکومت جی ڈی پی میں دوفیصداضافہ کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تاہم اس کادارومدارنہ صرف اندرونی بلکہ بین الاقوامی حالات پربھی ہے، اگروباء کی صورتحال میں بہتری آئی اورمعیشتیں کھل گئی تواس صورت میں پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا۔








