حکومت نے نجکاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کی جانب منتقلی پراپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے، ٹیرف ریشنلائزیشن پروگرام کا مقصد صنعتی ماحول کو مزید مسابقتی اور موثر بنانا ہے،وفاقی وزیرخزانہ کی برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے وفد سے گفتگو

حکومت نے نجکاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کی جانب منتقلی پراپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے، ٹیرف ریشنلائزیشن پروگرام کا مقصد صنعتی ماحول کو مزید مسابقتی اور موثر بنانا ہے،وفاقی وزیرخزانہ کی برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت نے نجکاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کی جانب منتقلی پراپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے، ٹیرف ریشنلائزیشن پروگرام کا مقصد صنعتی ماحول کو مزید مسابقتی اور موثر بنانا ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں ایشیا کیلئے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ بی آئی آئی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سربراہ سرینی ناگاراجن سے ملاقات میں کہی ۔

ملاقات میں پاکستان میں برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کی سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کرنے اور ترجیحی شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کو مزید متحرک کرنے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد میں برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے پاکستان کے سربراہ امتیاز سیتھنا، پاکستان کی منیجر ریما غنی، ایف سی ڈی او کے ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈک اور انویسٹمنٹ منیجر ضیغم اقبال بھی موجود تھے۔ملاقات میں پاکستان کے لئے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے سرمایہ کاری منصوبوں، نجی سرمائے کو متحرک کرنے، بنیادی ڈھانچہ و موسمیاتی فنانسنگ، پرائیویٹ ایکوٹی ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لئے فنانسنگ اور پاکستان میں جاری معاشی و ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے ایم ڈی نے وزیرِ خزانہ کو برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کی 2026 سے 2031 تک کی سرمایہ کاری سے متعلق حکمتِ عملی سے آگاہ کیا جس کے تحت ادارہ ایشیا اور افریقہ میں کم از کم 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیا اور ابھرتی ہوئی منڈیوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لئے ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے آنے والے برسوں میں ملک میں برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کی سرمایہ کاری کا دائرہ نمایاں طور پر بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ اپنی سرمایہ کاری کے ساتھ نجی سرمائے کو بھی متحرک کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے اور بنیادی ڈھانچہ، موسمیاتی فنانسنگ، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور نجی مارکیٹوں کے شعبوں میں اپنے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے قابل منڈیوں کی ترقی اور مزید نجی سرمایہ راغب کرنے میں معاونت فراہم کرنا چاہتا ہے۔وزیرِ خزانہ نے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے حوالے سے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کی مسلسل وابستگی اور دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری آئی ہے، حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات، نجکاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی ونمو کی جانب منتقلی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے بین الاقوامی بانڈز کا کامیاب اجرا، نجکاری کے عمل میں مسلسل پیشرفت اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مسلسل بہتری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی معاشی سمت اور عالمی سرمایہ کاروں و بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں سے دوبارہ مضبوط روابط پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے وفد نے بتایاکہ پرائیویٹ ایکوٹی ، فنڈ آف فنڈزسٹرکچر اور پرائیویٹ کریڈٹ کے ذریعے مالیاتی شعبے میں گہرائی پیدا کرنے اور پاکستان کے ملکی سرمایہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ سرینی ناگاراجن نے کیپٹل مارکیٹ میں جاری اصلاحات اور سرمایہ کاری و سرمایہ نکالنے کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ پالیسی یقین دہانی اور اعتماد طویل مدتی نجی سرمائے کے بڑے ذخائر کو پاکستان کی جانب راغب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ وفد نے موسمیاتی سرمایہ کاری، قابلِ تجدید توانائیوبنیادی ڈھانچہ بالخصوص بجلی کی ترسیل کے شعبے میں بھی بی آئی آئی کی دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارہ قابلِ عمل مالیاتی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی تیاری میں اپنا بین الاقوامی تجربہ اور مہارت بروئے کار لانے کے لئے تیار ہے۔

وزیرِ خزانہ نے وفد کو ٹیکس نظام، توانائی، ٹیرف پالیسی، کیپٹل مارکیٹ اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں جاری اصلاحات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے حکومت کے پانچ سالہ ٹیرف ریشنلائزیشن پروگرام کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس کا مقصد صنعتی ماحول کو مزید مسابقتی اور موثر بنانا ہے، پالیسی معاونت کو بتدریج کارکردگی اور مقررہ مدت کے اقدامات سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ملاقات میں بنیادی ڈھانچہ کی مالیات کے لئے کیپٹل مارکیٹ کے نئے مالیاتی آلات (instrments)متعارف کرانے اور سرمایہ کاری کے ذرائع وسیع کرنے کے لیے جدید طریقہ کار تلاش کرنے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ضمن میں موزوں موجودہ رئیل سٹیٹ اثاثوں کی ممکنہ ٹوکنائزیشن سمیت مختلف اختراعی طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا تاکہ سرمایہ کاری کے نئے راستے پیدا اور سرمائے کے نئے ذرائع متحرک کئے جا سکیں۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے وفد کو نیشنل پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے لئے قائم کمیٹی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ اس فریم ورک کا مقصد پاکستان میں پرائیویٹ ایکویٹی کے شعبے کو مضبوط بنانا، مقامی فنڈ مینجمنٹ کی صلاحیت کو فروغ دینا اور ملکی و بین الاقوامی طویل مدتی سرمائے کو متحرک کرنا ہے۔

انہوں نے حکومت کے مالیات تک رسائی کے وسیع تر ایجنڈے پر بھی روشنی ڈالی جس کے تحت نجی کریڈٹ، رسک شیئرنگ میکانزم، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مضبوط مالیاتی انفراسٹرکچر کے ذریعے ایس ایم ایز، زراعت اور دیگر ایسے شعبوں کے لیے فنانسنگ میں اضافہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں جہاں مالیاتی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ مالیاتی سہولیات تک وسیع تر رسائی اور نجی سرمائے کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرنا معاشی استحکام کو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، برآمدات اور پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔ملاقات میں موسمیاتی فنانسنگ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں قریبی تعاون کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں ترقیاتی مالیاتی اداروں کے کردار، منصوبوں کے خطرات کم کرنے، نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور قابلِ عمل مالیاتی حل وضع کرنے جیسے امور شامل تھے۔

وزیرِ خزانہ نے حکومت کے متعلقہ اقدامات، سٹڈیز اور پالیسی فورمز میں بی آئی آئی کی جانب سے اپنے بین الاقوامی تجربے سے استفادہ کرانے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا اور اس امر پر زور دیا کہ ترقیاتی مالیاتی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مخصوص اور قابلِ عمل مواقع کے حوالے سے ایک دوسرے کے قریب لانا ضروری ہے۔ سرینی ناگاراجن نے پاکستان کے معاشی ماحول میں بہتری کو سراہتے ہوئے ملک کے معاشی مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے لئے بی آئی آئی کی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مارکیٹ کی ترقی میں معاونت اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے مزید نجی سرمایہ متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے بی آئی آئی کی مسلسل شمولیت اور تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی تجاویز پر بروقت غور اور ٹھوس سرمایہ کاری معاملات کی جانب پیشرفت کی حوصلہ افزائی کی۔ فریقین نے پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری، تجربات کے تبادلے اور نجی سرمائے کو متحرک کرنے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور قابلِ عمل مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

مزید خبریں