وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے قانونی تعلیم اور وکالت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے لا گیٹ، انٹری ٹیسٹ، ڈگریوں کی تصدیق اور بائیو میٹرک نظام جیسے اقدامات متعارف کرائے ہیں، جبکہ وکلا اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صحت انشورنس پالیسی پر بھی کام جاری ہے۔
حکومت کا قانونی تعلیم اور وکالت کے شعبے میں اصلاحاتی اقدامات متعارف کرائے ہیں،اعظم نذیر تارڑ

مزید خبریں
لاہور۔4جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے قانونی تعلیم اور وکالت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے لا گیٹ، انٹری ٹیسٹ، ڈگریوں کی تصدیق اور بائیو میٹرک نظام جیسے اقدامات متعارف کرائے ہیں، جبکہ وکلا اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صحت انشورنس پالیسی پر بھی کام جاری ہے۔ ہفتہ کے روز پنجاب بار کونسل میں بار ووکیشنل کورس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 2010 میں پاکستان بار کونسل کی لیگل ایجوکیشن کمیٹی کے ذریعے اصلاحات کا سفر شروع کیا گیا۔ اس وقت لا کالجز میں سینکڑوں طلبہ کو داخلے دیے جا رہے تھے جس سے قانونی تعلیم کا معیار متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وکالت کے شعبے کو منظم کرنے کے لیے داخلوں سے قبل انٹری ٹیسٹ، ایل ایل بی کے بعد لا گیٹ امتحان اور ڈگریوں کی تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا۔ ان کے بقول یہ فیصلے آسان نہیں تھے اور اس پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم پیشے کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وکلا کی حاضری کے لیے بائیو میٹرک نظام متعارف کرانے کی تیاری مکمل ہے اور اس حوالے سے نادرا کے ساتھ فیس سمیت دیگر معاملات طے کر لیے گئے ہیں، جبکہ بار نمائندوں کی تجاویز کی روشنی میں اس نظام کو حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وکلا اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے دل، گردے، جگر اور کینسر سمیت سنگین بیماریوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے صحت انشورنس پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیرِ صحت سے بات ہو چکی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں اس منصوبے کی معاونت کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی بار ایسوسی ایشنز کے لیے135 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے، جبکہ بار ووکیشنل کمیٹی کے پروگراموں کے لیے بھی2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ انتظامی معاملات یا فرد کے اجرا میں تاخیر جیسے مسائل پر غیر ضروری احتجاج اور اہلکاروں کے ساتھ ناروا رویہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ ایسے معاملات متعلقہ بار کونسلز کے ذریعے حل کیے جائیں۔ عدالتی اصلاحات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آئینی ترامیم پر بار کونسلز سے مشاورت کی گئی ہے اور ججز کی تقرری کے لیے پہلی بار سات رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو امیدواروں کے انٹرویوز کے بعد اپنی سفارشات جوڈیشل کمیشن کو بھجوائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ کے ججز کی ایک سال بعد کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر کسی جج کی کارکردگی سے جوڈیشل کمیشن مطمئن نہ ہوا تو متعلقہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم اتفاقِ رائے اور مشاورت سے ہونی چاہئیں اور مستقبل میں بھی قومی مفاد کے تقاضوں کے مطابق وسیع مشاورت سے ہی قانون سازی کی جائے گی۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے خطاب کرتے ہوئے پنجاب بار کونسل کی جانب سے وکلا اکیڈمی کے قیام کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے آنے والے وکلا کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے اکیڈمی کا قیام ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی مزید بہتری کے لیے بھرپور کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے پنجاب بار کونسل میں قائم جدید ہال کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خوبصورت منصوبہ چوہدری احسن بھون کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر چوہدری احسن بھون نے کہا ہے کہ وکلا برادری کی فلاح، آئین و قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی پاکستان بار اور صوبائی بار کونسلوں کی اولین ترجیحات ہیں، جبکہ آئین میں کسی بھی ترمیم کا ایک واضح آئینی طریقہ کار موجود ہے۔ چوہدری احسن بھون نے کہا کہ انہوں نے اپنے ممبران کو ہمیشہ مشاورت کے ساتھ فیصلے کرنے کی ہدایت دی کیونکہ اجتماعی مشاورت سے ہونے والے فیصلے زیادہ بہتر اور دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد اور اکیڈمی کے قیام میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری کی فلاح و بہبود ان کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، عدالتوں کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے، آئین بنانا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کی کوشش ہوگی وہاں وکلا حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تاہم اگر حکومت آئین یا قانون سے انحراف کرے گی تو وکلا اس کی بھی مخالفت کریں گے۔ چوہدری احسن بھون نے کہا کہ ماضی میں میڈیا پر ایسے ٹکرز چلائے جاتے تھے جن میں آئین و قانون کو پامال کیا جاتا اور ریاستی اداروں کی تذلیل کی جاتی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ عدالتوں کو بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے آئینی ترمیم سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا کہ صحافی اکثر 28 ویں آئینی ترمیم کے بارے میں پوچھتے ہیں، تاہم اس حوالے سے انہیں کوئی معلومات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کوئی مجوزہ آئینی ترمیم بار کونسل کے ساتھ شیئر کرے گی تو اس کا آئینی اور قانونی پہلوں سے جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پلیٹ فارم پر پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی وابستگی رکھنے والے وکلا موجود ہیں، تاہم سب کا مقصد وکلا برادری کے مفادات کا تحفظ ہے۔ انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ اپنی قوت کو منتشر نہ ہونے دیں اور کسی کو بھی وکلا برادری کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔








