حکومت کا موسم کی پیش گوئی اور ابتدائی وارننگ نظام بہتر بنانے کے لیے 1.6 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ

حکومت کا موسم کی پیش گوئی اور ابتدائی وارننگ نظام بہتر بنانے کے لیے 1.6 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد۔5جولائی (اے پی پی):پاکستان نے مختلف منصوبوں اور پالیسی اقدامات کے ذریعے موسم کی پیش گوئی، قدرتی آفات سے نمٹنے کی استعداد اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سالانہ منصوبہ 2026-27 کے مطابق محکمہ موسمیات کے لیے موسم کی پیش گوئی کے نظام اور آفات کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی غرض سے 1.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس رقم میں مجوزہ نیشنل سینٹر فار رین فال انہانسمنٹ کے لیے 34 کروڑ 40 لاکھ روپے شامل ہیں، جس کا مقصد آبی تحفظ، موسمیاتی موافقت اور زرعی پیداوار میں بہتری لانا ہے۔

اسی طرح ملتان اور سکھر میں موسمی نگرانی کے ریڈار منصوبوں کے لیے بالترتیب 19 کروڑ 50 لاکھ روپے اور 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ حقیقی وقت میں موسم کی نگرانی اور ابتدائی وارننگ کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔دستاویز کے مطابق پاکستان میں ہائیڈرومیٹ سروسز کی جدیدکاری کے منصوبے کے لیے مزید ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصدہائیڈرومیٹرولوجیکل انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، موسم کی پیش گوئی کی درستگی میں اضافہ کرنا اور موسمیاتی ڈیٹا کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔سالانہ منصوبے کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے، جن میں سے زیادہ تر رقم جنگلات، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، شجرکاری اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔

اہم منصوبوں میں پاکستان کلائمیٹ انوویشن اینڈ گرین گروتھ انیشی ایٹو بھی شامل ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو گرین اسکلز کی تربیت دی جائے گی اور گرین انوویشن فنڈ کے ذریعے ماحول دوست کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ریموٹ سینسنگ اور مشین لرننگ ٹیکنالوجیز کی مدد سے قومی جنگلات اور درختوں کے احاطے کا جائزہ لینے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ جنگلات کی نگرانی اور بحالی کی منصوبہ بندی کو بہتر بنایا جا سکے۔اس پروگرام کے تحت اپ اسکیلنگ آف گرین پاکستان پروگرام کے تحت متعدد خصوصی منصوبے بھی متعارف کرائے جائیں گے، جن میں اسلام آباد میں ماحولیاتی نگرانی کے لیے پالیوشن لوڈ اسیسمنٹ نیٹ ورک، وفاقی دارالحکومت میں بوٹینیکل گارڈن کا قیام اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تحفظ کے اقدامات شامل ہیں۔

حکومت نے موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، پانی کے مؤثر انتظام، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، ماحول دوست صنعت کاری، سرکلر اکانومی کے اقدامات اور مقامی کاربن مارکیٹ کے نظام کو بھی فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ پائیدار معاشی ترقی کی حمایت کی جا سکے۔سالانہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی مزاحمت پر بڑھتی ہوئی توجہ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہے۔ منصوبے کے مطابق 2010، 2011، 2014، 2022 اور 2025 کے بڑے سیلابوں نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا، بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا اور لاکھوں افراد کے روزگار اور معاش کو نقصان پہنچایا۔منصوبے میں ورلڈ بینک کی 2022 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سیلاب اور زلزلوں کے باعث ہر سال اوسطاً تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نقصان 2030 تک بڑھ کر 250 ارب ڈالر اور 2050 تک 1.2 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جبکہ شدید آفت کے کسی سال میں ترجیحی شعبوں میں ہونے والا نقصان مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 30 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو موسمیاتی موافقت اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔