ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے اشتراک سے ایک اعلیٰ سطحی قومی سیمینار

ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے اشتراک سے ایک اعلیٰ سطحی قومی سیمینار

اسلام آباد۔5جولائی (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ (آئی آر ایم) نے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (ایچ آر ڈی این) کے اشتراک سے ’’مہارتوں کے خلا کا خاتمہ: خواتین، روزگار اور پائیدار معاشی ترقی‘‘ کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی قومی سیمینار کا انعقاد کیاجس میں خواتین کی افرادی قوت میں مؤثر شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مہارتوں کی ترقی اور جامع معاشی پالیسیوں اور عملی حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔ اتوار کو جاری پریس ریلیز کے مطابق سیمینار میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی ماہرین، تعلیمی شعبہ کے ماہرین، سول سوسائٹی، نجی شعبے، میڈیا اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومتِ پاکستان بیرسٹر نبیل احمد اعوان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی شمولیت قومی ترجیح ہے اور پاکستان کی جامع اور پائیدار ترقی کا انحصار خواتین کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں، ڈیجیٹل خواندگی، کاروباری مواقع، مالی شمولیت اور روزگار و منڈیوں سے مضبوط روابط فراہم کرنے پر ہے۔انہوں نے بروقت اور مؤثر مکالمے کے انعقاد پر آئی آر ایم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے فورمز حکومت، جامعات، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر عملی اقدامات کی راہ ہموار کرتے ہیں۔اس سے قبل آئی آر ایم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر رومی ایس حیات نے شرکاء کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی اور استعداد کار بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہارتوں کی ترقی صرف روزگار تک محدود نہیں بلکہ یہ نئے مواقع پیدا کرنے، کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور قومی خوشحالی میں کردار ادا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

انہوں نےتعلیم، مہارتوں اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔کلیدی خطاب ایچ آر ڈی این کی ڈائریکٹر اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات کی سربراہ ڈاکٹر نور فاطمہ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم، مستقبل سے ہم آہنگ مہارتوں اور مؤثر پالیسی اصلاحات میں سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان اپنی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لا سکتا ہے اور جامع ترقی کے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔اسٹریٹجک ریفلیکشنز سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی سیکرٹری فرینہ مظہر نے کہا کہ خواتین کی مہارتوں کی ترقی کو فلاحی اقدام کے بجائے معاشی ترقی کے ایجنڈے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف اسناد دینے والی تربیت کے بجائے ایسے پروگرام متعارف کرائے جائیں جو روزگار،کاروبار، آمدنی میں اضافے اور منڈی تک رسائی کے عملی نتائج فراہم کریں۔انہوں نے خواتین کوڈیجیٹل مہارتیں، مالیاتی خواندگی، ای کامرس اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور حکومت، نجی شعبے، تربیتی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان شراکت داری مضبوط بنانے کی سفارش کی۔سیمینار میں ایک مباحثے کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبوں کے نمائندوں نے پاکستان کے مہارتی نظام کو مضبوط بنانے اور خواتین کے لیے معاشی مواقع بڑھانے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ تقریب کے اختتام پر اختر حمید خان نیشنل سینٹر فار رورل ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل اسرار محمد خان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، مقررین، شرکاء اور آئی آر ایم کی ٹیم کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے تجویز دی کہ آئی آر ایم کے وسیع تجربے اور ملک گیر خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کو مہارتوں کی ترقی، خواتین کے معاشی استحکام اور دیہی استعداد کار میں اضافے کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس کا درجہ دینے پر متعلقہ سرکاری سطح پر غور کیا جائے۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں، اور نیٹ ورکنگ سیشن کا انعقاد کیا گیاجس میں تمام شراکت داروں نے خواتین کی مہارتوں، جامع روزگار اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

واضح رہے کہ آئی آر ایم گزشتہ 30 برس سے زائد عرصے سے پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی اور ادارہ جاتی استعداد کار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ ادارہ ملک بھر میں اپنے پروگراموں کے ذریعے 15 لاکھ سے زائد افراد، جن میں خواتین، نوجوان، پیشہ ور افراد، کاروباری شخصیات اور کمیونٹی رہنما شامل ہیں، کو مختلف مہارتوں کی تربیت فراہم کر چکا ہے۔اسی طرح انسانی وسائل کی ترقی کے لیے سرگرم قومی نیٹ ورک ایچ آر ڈی این نے اپنے وسیع رابطہ نیٹ ورک کے ذریعے اس سیمینار میں ترقیاتی ماہرین، پالیسی سازوں اور پیشہ ور افراد کو یکجا کیا، جس سے افرادی قوت کی ترقی، صنفی شمولیت اور پالیسی جدت سے متعلق مباحثے کو تقویت ملی۔