ریاست کو سیاست سےالگ رکھنا ہوگا، سیاسی احتجاج حق مگر ریاستی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، احسن اقبال

ریاست کو سیاست سےالگ رکھنا ہوگا، سیاسی احتجاج حق مگر ریاستی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، احسن اقبال

اورلینڈو (امریکہ)۔5جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ریاست کو سیاست سےالگ رکھنا ہوگا، سیاسی احتجاج حق ہے مگر ریاستی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا،دنیا کاکوئی جمہوری ملک سیاسی ایجنڈوں کی خاطر ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیتا، مصنوعی ذہانت سے صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے،ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے ملک گیر آگاہی مہم شروع کی جائے گی، قومی مفاد میں مشکل مگر ضروری فیصلے کر کے معیشت کو مستحکم کیا گیا،مہنگائی تقریباً 38 فیصد سے کم ہو کر 5 سے 6 فیصد کی سطح پر آ گئی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو اورلینڈو میں ’’اپنا کنونشن 2026‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز پاکستان کے ہیلتھ سیکٹر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں،بیرونِ ملک پاکستانی ڈاکٹرز پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں،اوورسیز پاکستانی معالجین جدید طبی مہارت، ٹیکنالوجی اور تجربہ پاکستان منتقل کریں۔ احسن اقبال نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے صحت کےشعبے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے،اوورسیز ڈاکٹرز پاکستان میں اے آئی پر مبنی ہیلتھ کیئر سلوشنز کے فروغ میں معاونت کریں،پاکستان کو صحت، خواندگی اور آبادی کے شعبوں میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی، ذیابیطس، ٹی بی، پولیو اور بچوں میں غذائی کمی قومی چیلنجز ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پاپولیشن کونسل کے قیام کی منظوری دے دی ہے،پاپولیشن کونسل کی سربراہی وزیراعظم کریں گے، تمام وزرائے اعلیٰ رکن ہوں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا پروگرام جاری ہے،ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے ملک گیر آگاہی مہم شروع کی جائے گی،بیرونِ ملک پاکستانی ڈاکٹرز علم، جدت اور اصلاحات کے ذریعے وطن کی خدمت جاری رکھیں،پالیسیوں کے تسلسل میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان اپنے ترقیاتی اہداف مکمل حاصل نہ کر سکا،ماضی میں توانائی بحران کا خاتمہ، امن و امان میں بہتری اور سی پیک کا کامیاب آغاز ہماری اہم کامیابیاں رہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں تین برس میں تقریباً 25 ارب ڈالر سرمایہ کاری آئی،اپریل 2022 میں اتحادی حکومت نے معیشت کو دیوالیہ کے دہانے سے واپس لایا،قومی مفاد میں مشکل مگر ضروری فیصلے کر کے معیشت کو مستحکم کیا گیا،مہنگائی تقریباً 38 فیصد سے کم ہو کر 5 سے 6 فیصد کی سطح پر آ گئی،شرح سود میں نمایاں کمی سے پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی گئی۔انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا مگر پاکستان نے بحالی کا سفر جاری رکھا، پاکستان نے حالیہ قومی چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کر کے عالمی سطح پر وقار میں اضافہ کیا،حکومت کی اڑان پاکستان حکمت عملی کا مرکز برآمدات میں اضافہ ہے، پاکستان کی برآمدات 40 ارب ڈالر جبکہ ویتنام کی 450 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2035 تک پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر سے آگے لے جانا قومی ہدف ہے،اوورسیز پاکستانی عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات بڑھانے میں کردار ادا کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کے خلاف کامیاب دفاع کیا، وزیر اعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کے نتیجے میں ایران امریکہ مذاکرات کامیاب ہوئے،پاکستان کی امن کوششوں کو عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی ملی۔

احسن اقبال نے کہا کہ ریاست کو سیاست سے الگ رکھنا ہوگا، سیاسی احتجاج حق ہے مگر ریاستی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا،دنیا کا کوئی جمہوری ملک سیاسی ایجنڈوں کی خاطر ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیتا،بین الاقوامی سطح پراندرونی اختلافات کو تماشہ بنانے سے پاکستان کے وقار، عالمی برانڈ اور ریاستی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ اختلافِ رائے کا اظہار ذمہ داری سے ہونا چاہیے،

قومی خودمختاری اور ریاستی وقار ہر حال میں مقدم ہیں،اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز کو ملکی ترقی اور نظامِ صحت سے جوڑنے کے لیے انقلابی ٹیلی میڈیسن ماڈل زیرِ غور ہے، پاکستان کے 60 اضلاع میں امریکی ماہرینِ صحت پر مشتمل ٹیلی میڈیسن بیک اپ پینل قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہر ضلع میں 10 امریکی ماہر ڈاکٹروں کا پینل دور دراز علاقوں کے جونیئر ڈاکٹرز کو بیک اینڈ سپورٹ فراہم کرے گا،ٹیلی میڈیسن کے ذریعےپاکستانی جونیئر ڈاکٹرز امریکی اسپیشلسٹس سے براہِ راست مشاورت کر سکیں گے۔