حکومت کی تجارتی پالیسیوں، نئی منڈیوں تک رسائی اور برآمدی شعبوں کی سرپرستی کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی برآمدات میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے،شماریات بیورو

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):حکومت کی تجارتی پالیسیوں، نئی منڈیوں تک رسائی اور برآمدی شعبوں کی سرپرستی کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی برآمدات میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار اس مثبت رجحان کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ تجارتی حلقے ان اقدامات کو معیشت کے استحکام کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔شماریات بیورو پاکستان کے مطابق مالی سال 2023-24 میں مجموعی اشیا کی برآمدات 30.675 …

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):حکومت کی تجارتی پالیسیوں، نئی منڈیوں تک رسائی اور برآمدی شعبوں کی سرپرستی کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی برآمدات میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار اس مثبت رجحان کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ تجارتی حلقے ان اقدامات کو معیشت کے استحکام کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔شماریات بیورو پاکستان کے مطابق مالی سال 2023-24 میں مجموعی اشیا کی برآمدات 30.675 ارب امریکی ڈالر تک پہنچیں، جو پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 10.6 فیصد زیادہ ہیں ۔ تجارتی خسارہ 24.104 ارب ڈالر تک کم ہوا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 12.3 فیصد بہتری ہے۔ اس اضافے کا بڑا کریڈٹ زرعی اور غذائی اشیا کی برآمدات کو ملا، خاص طور پر چاول کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برآمدات میں ٹیکسٹائل گروپ اب بھی سب سے بڑا حصہ دار رہا۔

وزارت تجارت اور ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں مجموعی برآمدات 32 ارب ڈالرتک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد زیادہ ہیں۔ جولائی تا مارچ 2024-25 کے دوران برآمدات 24.719 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 7.82 فیصد زیادہ ہے۔درآمدات میں 6.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور وہ 42.698 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کے نتیجے میں مختلف شعبہ جات میں کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔

برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ملبوسات کا رہا، جولائی تا مارچ 13.614 ارب ڈالر (9.38 فیصد اضافہ) ریکارڈ کیا گیا۔ تیار شدہ گارمنٹس، نٹ ویئر اور ہوم ٹیکسٹائل میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ۔غذائی اجناس اور چاول کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔حکومتی اقدامات، پالیسیوں اور وزارت تجارت کی بہترین حکمت عملی سے پانچ سالہ جامع ٹیکسٹائل پالیسی بنائی گئی، جس میں توانائی ٹیرف میں استحکام، مالی معاونت، نئے اکنامک زونز اور ون ونڈو آپریشنز شامل ہیں۔ بین الاقوامی تجارتی میلوں اور روڈ شوز کا کامیاب انعقاد کیا گیا، خاص طور پر افریقی منڈیوں میں پاکستان کی مقامی مصنوعات کو احسن طریقے سے متعارف کرایا گیا – اس کے علاؤہ برآمد کنندگان کے تحفظ اور سہولت کے لیے انشورنس آرڈیننس 2000 میں ترامیم پر کام جاری ہے ۔

حالیہ دنوں میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بنگلہ دیش دورے کے دوران دوطرفہ تجارتی تعاون بڑھانے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا، جو تجارتی حجم بڑھانے اور رکاوٹوں کے خاتمے میں مدد دے گا۔ حکومت نے کاروباری حلقوں اور ماہرین کی رائے سے پالیسی بنانے کا عمل شروع کیا ہے جس کو سراہا جا رہا ہے ۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ توانائی ٹیرف میں استحکام اور حکومتی سطح پر بیرونی منڈیوں میں نمائندگی سے کاروباری اعتماد بڑھا ہے۔

ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ عالمی چیلنجز کے باوجود برآمدات میں بہتری مثبت اشارہ ہے، تاہم تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدی متبادل صنعتوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اعداد و شمار اور کاروباری تبصروں سے واضح ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں تسلسل کے ساتھ اضافہ، نئی منڈیوں تک رسائی اور پالیسی اصلاحات معیشت کو مضبوط کرنے کی جانب پیش رفت کو ظاہر کر رہے ہیں۔ اگر پالیسی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان کی عالمی تجارتی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔