اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے کہ کوئی بھی مستحق فرد سرجری یا مصنوعی عضو کے علاج سے محروم نہ رہے، حکومت نے میڈیکل فنانشل اسسٹنس کے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے گزشتہ مالی سال کے 227 ملین روپے کے مقابلے میں رواں مالی سال تقریباً 280 ملین روپے مختص کیے …
حکومت کی ترجیح ہے کہ کوئی بھی مستحق فرد علاج سے محروم نہ رہے، پاکستان بیت المال کے مالی معاونت پروگرام کو مزید موثر، شفاف اور فعال کیا گیا ہے،وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ کی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن کے دورہ کے موقع پر گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے کہ کوئی بھی مستحق فرد سرجری یا مصنوعی عضو کے علاج سے محروم نہ رہے، حکومت نے میڈیکل فنانشل اسسٹنس کے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے گزشتہ مالی سال کے 227 ملین روپے کے مقابلے میں رواں مالی سال تقریباً 280 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن (نرم) کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستان بیت المال کے تحت مستحق مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی مالی معاونت کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر نرم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ حبیب اللہ نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا اور ادارے کی مجموعی کارکردگی، مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور پاکستان بیت المال کے انفرادی مالی معاونت پروگرام کے تحت دی جانے والی امداد پر بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر نے نرم کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور بعد ازاں پروس تھیٹک لیبارٹری کا دورہ کیا جہاں مصنوعی اعضاء، آرتھوپس، سماعتی آلات اور دیگر معاون آلات کی تیاری و فراہمی کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے نرم میں فراہم کی جانے والی بحالیاتی سہولیات کو معذور اور خصوصی ضرورت کے حامل افراد کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت میں پاکستان بیت المال کے انفرادی مالی معاونت پروگرام کو مزید موثر، شفاف اور توسیعی بنیادوں پر فعال کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2022ء سے نومبر 2025ء تک نرم میں 2,267 مستحق مریضوں کو پاکستان بیت المال کے ذریعے علاج اور بحالی کی سہولت فراہم کی گئی جس پر تقریباً 278 ملین روپے خرچ کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ نرم میں پاکستان بیت المال کے تحت بڑی سرجریز، مصنوعی اعضاء، امپلانٹس، سماعتی آلات اور سپیچ و فزیکل ری ہیبلیٹیشن جیسے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانشل اسسٹنس پروگرام کے تحت علاج کے لیے دی جانے والی امداد کو ایک ملین سے بڑھا کر ڈیڑھ ملین روپے تک کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے نِرم میں پاکستان بیت المال کے فیسلیٹیشن ڈیسک کے قیام، آن لائن کیس ٹریکنگ اور کمپیوٹرائزڈ انتظامی نظام کو مزید موثر بنانے کی ہدایت بھی دی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور میڈیکل اسسٹنس کے کیسز کو ایک ماہ کے اندر نمٹایا جائے، ہنگامی کیسز کے لیے فاسٹ ٹریک نظام کو موثر بنایا جائے۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر بے نظیر انکم سپورٹ پرگرام کے سیکرٹری عامر احمد علی کے رمضان ریلیف اقدامات کو ایک مثبت اور بروقت قدم قرار دیا اور کہا کہ موجودہ حکومت سماجی تحفظ کے تمام پروگراموں کو مربوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بیت المال کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وہ ملک بھر کے دیگر ہسپتالوں اور جامعات کا بھی دورہ کریں گے جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی جلد دورے کیے جائیں گے تاکہ سماجی تحفظ اور طبی معاونت کے نظام کو زمینی سطح پر مزید بہتر بنایا جا سکے۔








